خیبرپختونخوا کے ضلع میں واقع قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس میں ایک خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کی کوشش کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد پولیس نے تین سیکیورٹی گارڈز کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ وزیر صحت خیبر پختونخوا نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔

 

تھانہ کلاں نوشہرہ میں درج ایف آئی آر کے مطابق داؤد زئی (اسماعیل خیل) کی رہائشی 25 سالہ خاتون اپنے زیر علاج شوہر کی تیمارداری کے لیے اسپتال میں موجود تھی۔ خاتون کے مطابق 8 جون 2026 کو رات تقریباً 9 بجے وہ اپنے شوہر کے لیے کھانا لینے وارڈ سے باہر گئی تھی۔

 

ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ واپسی پر راستہ معلوم کرنے کے لیے اس نے ایک سیکیورٹی گارڈ سے مدد مانگی، جس نے مبینہ طور پر اسے سیکیورٹی روم میں لے جا کر دروازہ بند کر دیا اور اس کے ساتھ زبردستی کرتے ہوئے زیادتی کی کوشش کی۔

 

یہ بھی پڑھیے: ملاکنڈ: دریائے سوات میں تین خواتین ڈوب گئیں، ایک جاں بحق، ایک لاپتا

 

خاتون نے پولیس کو بتایا کہ بعد ازاں دو مزید سیکیورٹی گارڈز بھی کمرے میں آ گئے اور انہوں نے بھی مبینہ طور پر اس کے ساتھ نازیبا حرکات کیں۔ خاتون کے مطابق اس نے مزاحمت کرتے ہوئے شور مچایا، جس پر ملزمان موقع سے چلے گئے۔

 

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد اسپتال عملے اور دیگر افراد کی موجودگی میں ملزمان کی شناخت عمیر، ندیم خان اور عباس کے ناموں سے ہوئی، جن کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

 

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کا طبی معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

 

 

دوسری جانب وزیر صحت خیبر پختونخوا میاں خلیق الرحمان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی ہے۔