زالان خان آفریدی
تاج محمد آفریدی (مرحوم) ضلع خیبر کی تحصیل جمرود کے علاقے شاہ کس میں پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کے ایک سینئر سیاستدان، قبائلی رہنما اور عوامی شخصیت تھے جنہوں نے پارلیمانی سیاست، نگران حکومت اور قبائلی علاقوں کی نمائندگی میں اہم کردار ادا کیا۔
وہ سینیٹ آف پاکستان کے رکن رہے اور بعد ازاں نگران حکومت میں صوبائی سطح پر اہم ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔ ان کا تعلق ایک معروف سیاسی گھرانے سے تھا اور وہ سابق ایم این اے شاہ جی گل آفریدی کے بھائی تھے، جو علاقے کی سیاست میں ایک نمایاں نام سمجھے جاتے ہیں۔
انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ڈگری کالج لنڈی کوتل سے حاصل کی، جہاں سے ان کے علمی اور فکری سفر کا آغاز ہوا۔ خاندانی زندگی میں وہ ایک شفیق والد تھے۔ ان کے پسماندگان میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔
تاج محمد آفریدی 11 مارچ 2015 سے 11 مارچ 2021 تک سینیٹ آف پاکستان کے رکن رہے۔ وہ جنرل نشست پر آزاد حیثیت سے منتخب ہوئے تھے۔ سینیٹ میں اپنی مدت کے دوران انہوں نے بالخصوص قبائلی علاقوں کے مسائل، ترقیاتی ضروریات اور عوامی حقوق کے حوالے سے بھرپور آواز اٹھائی اور ایوانِ بالا میں ان علاقوں کی مؤثر نمائندگی کی۔
پارلیمانی سیاست کے بعد انہیں نگران حکومت میں بھی اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ وہ 26 جنوری 2023 سے 10 اگست 2023 تک خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے ریلیف، بحالی و آبادکاری رہے۔

اپنے دورِ وزارت میں انہوں نے قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں کی بحالی، امدادی سرگرمیوں اور ریلیف آپریشنز کی نگرانی میں فعال کردار ادا کیا۔ ان کی انتظامی صلاحیتوں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کو مختلف حلقوں میں سراہا گیا۔
ان کا سیاسی سفر مختلف ادوار میں مختلف جماعتی وابستگیوں سے جڑا رہا۔ 2015 سے 2021 تک وہ آزاد حیثیت سے سیاست کرتے رہے۔ بعد ازاں 2021 میں انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد وہ تحریکِ اصلاحات پاکستان سے وابستہ رہے اور 2023 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کا حصہ بن گئے۔ ان کی سیاسی زندگی مختلف سیاسی ادوار اور قومی و علاقائی حالات کے مطابق مسلسل متحرک رہی۔
تاج محمد آفریدی کی سیاست کا مرکز ہمیشہ قبائلی علاقوں کی ترقی، عوامی فلاح، ریلیف پالیسیوں اور عوامی مسائل کا حل رہا۔ وہ پارلیمانی اور انتظامی دونوں سطحوں پر متحرک رہے اور اپنے علاقے کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر آواز کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کی شخصیت قبائلی روایات، عوامی خدمت اور سیاسی بصیرت کا امتزاج تھی۔
12 جون 2026 کو ان کی زندگی کا سفر ایک المناک حادثے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ وہ اسلام آباد سے پشاور جا رہے تھے کہ موٹروے ایم-1 پر کرنل شیر خان انٹرچینج کے قریب پیش آنے والے ایک افسوسناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ ان کی وفات کی خبر سنتے ہی سیاسی، سماجی اور قبائلی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر دوڑ گئی۔

تاج محمد آفریدی کی زندگی ایک ایسے سیاستدان، سماجی شخصیت اور قبائلی رہنما کی داستان ہے جس نے تعلیم، پارلیمانی سیاست، نگران وزارت اور عوامی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے رکھا۔
ان کی سیاسی، سماجی اور پارلیمانی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور وہ قبائلی علاقوں کی تاریخ میں ایک اہم عوامی رہنما کے طور پر اپنی شناخت برقرار رکھیں گے۔
