خولہ زرافشاں
بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، یہاں تک کہ روزمرہ ضروریات پوری کرنا بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔
ایسے حالات میں عیدالاضحیٰ کی آمد ایک طرف خوشیوں اور عبادت کا پیغام لاتی ہے، تو دوسری طرف مالی دباؤ اور گھریلو اخراجات میں اضافہ بھی ساتھ لے آتی ہے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو کئی گنا بڑھا چکا ہے۔ چونکہ زیادہ تر مویشی پنجاب اور سندھ جیسے بڑے منڈیوں سے ملک کے مختلف حصوں میں لائے جاتے ہیں، اس لیے کرایوں میں اضافہ براہِ راست قربانی کے جانوروں کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بنوں: ممش خیل سے سیف سٹی پراجیکٹ کے 5 ملازمین اغوا
مثال کے طور پر جو مویشی پہلے کم لاگت میں منتقل ہو جاتا تھا، اب اس کی نقل و حمل پر ہی ہزاروں روپے اضافی خرچ آ جاتا ہے۔ یہی اضافہ بالآخر عام خریدار تک پہنچتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ چارے کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جانوروں کی بہتر دیکھ بھال، مناسب جگہ کا انتظام، پانی، چارہ اور دیگر ضروری اخراجات مل کر مویشی پالنے کو مزید مہنگا بنا دیتے ہیں۔
نتیجتاً قربانی کے جانور صرف منڈی میں ہی نہیں بلکہ پورے نظامِ سپلائی میں مہنگے ہوتے جا رہے ہیں، اور یہ بوجھ براہِ راست عام آدمی کی جیب پر پڑ رہا ہے۔
مارکیٹ میں گوشت کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اس وقت ایک کلو گوشت کی قیمت تقریباً ایک ہزار سے لے کر سولہ سو روپے تک جا پہنچی ہے، جبکہ گزشتہ سال یہی قیمت نسبتاً کم تھی۔
اس اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے گوشت خریدنا بھی مشکل بنا دیا ہے، جس سے عید کے موقع پر ان کی خوشیوں میں کمی محسوس ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے کی سرحدی صورتحال بھی مویشیوں کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اگر افغانستان کے ساتھ آمد و رفت محدود رہے تو مویشیوں کی سپلائی کم ہو سکتی ہے، جس سے قیمتیں کچھ حد تک قابو میں رہنے کا امکان ہوتا ہے۔ لیکن اگر سرحدی صورتحال میں نرمی آئے یا غیر رسمی تجارت میں اضافہ ہو تو مویشیوں کی قیمتوں میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
اس طرح وہ مویشی جو گزشتہ سال دو سے تین لاکھ روپے میں دستیاب تھا، اس سال مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔
قربانی اسلام کا ایک عظیم اور روحانی فریضہ ہے جس کا اصل مقصد اللہ کی رضا، اخلاص اور ایثار کے جذبے کو زندہ رکھنا ہے۔ تاہم آج کے دور میں بعض لوگ اسے نمائش اور مقابلہ بازی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔
بڑے اور مہنگے جانور خرید کر دوسروں پر برتری دکھانے کی کوشش نہ صرف قربانی کے اصل مقصد کو کمزور کرتی ہے بلکہ معاشرتی توازن کو بھی متاثر کرتی ہے۔
اگر صاحبِ استطاعت افراد اکیلے بڑے جانور کے بجائے اجتماعی قربانی کے نظام کو فروغ دیں تو نہ صرف مالی بوجھ کم ہو سکتا ہے بلکہ زیادہ لوگ بھی اس عبادت میں شریک ہو سکتے ہیں۔
ماضی میں پانچ یا سات افراد مل کر قربانی کرتے تھے جس سے نہ صرف آسانی ہوتی تھی بلکہ باہمی محبت، تعاون اور بھائی چارہ بھی مضبوط ہوتا تھا۔
آج کے مہنگائی کے دور میں متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہے، اس کے باوجود بہت سے لوگ اپنی ضروریات میں کمی کر کے اس فریضے کو ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو ان کے ایمان اور قربانی کے جذبے کی واضح مثال ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قربانی کے اصل فلسفے کو سمجھیں، سادگی اور اخلاص کو اپنائیں اور دکھاوے سے بچیں۔ اس طرح نہ صرف زیادہ لوگ اس عبادت میں شریک ہو سکیں گے بلکہ معاشرے میں محبت، ہمدردی اور بھائی چارہ بھی مزید مضبوط ہوگا۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
