سلمان خان
بنوں کے تھانہ کینٹ کی حدود ممش خیل میں نامعلوم مسلح افراد نے سیف سٹی پراجیکٹ کے 5 ملازمین کو اغوا کر لیا، جس کے بعد پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
ذرائع کے مطابق مغوی ملازمین سرکاری فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں ممش خیل میں موجود تھے کہ اس دوران مسلح افراد نے انہیں اسلحے کے زور پر یرغمال بنا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے: امید ہے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی گھر جائیں گے: شیر افضل مروت کا دعویٰ
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا۔ پولیس حکام کے مطابق مغویوں کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔
لاپتہ ہونے والوں میں محمد علی، زاہد خان، غلام صادق، نور حبیب اور وحید اللہ شامل ہیں، جو ضلع باجوڑ کے رہائشی ہیں۔ یہ تمام افراد سیف سٹی پراجیکٹ بنوں سے منسلک سول لیبر کے طور پر کام کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ بنوں میں حالیہ مہینوں کے دوران اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دو ماہ قبل بھی تھانہ کینٹ کی حدود میں نامعلوم افراد نے مسجد سے 3 بھائیوں کو اغوا کر لیا تھا، جن میں سے بعد ازاں 2 افراد کو قتل کر دیا گیا جبکہ 1 کو رہا کر دیا گیا تھا۔
گزشتہ روز تھانہ ہوید کی حدود شاہ دیو میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے ایف آر پی پولیس کانسٹیبل زاہد خان اور ان کی چار سالہ بیٹی زویا گل زخمی ہو گئے تھے، جنہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی نے ہسپتال کا دورہ کر کے زخمی اہلکار اور ان کی بیٹی کی عیادت کی اور اہل خانہ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
بنوں میں امن و امان کی صورتحال اور اغوا کاری کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر قومی مشران نے حالیہ دنوں “امن پاسون” کا اعلان کرتے ہوئے امن کے قیام اور بدامنی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
