موجودہ دور میں زندگی کے اخراجات دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔
مہنگائی، ضروریاتِ زندگی اور بہتر مستقبل کی دوڑ نے بہت سے گھرانوں کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ماں اور باپ دونوں کو ملازمت یا کاروبار کرنا پڑتا ہے تاکہ گھر کے اخراجات پورے کیے جا سکیں اور بچوں کو بہتر تعلیم، اچھی خوراک اور آرام دہ زندگی فراہم کی جا سکے۔
یقیناً والدین کی نیت ہمیشہ نیک ہوتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کسی چیز کی کمی محسوس نہ کریں، بہترین تعلیم حاصل کریں اور زندگی میں کامیاب ہوں۔ لیکن اس مسلسل جدوجہد میں ایک نہایت اہم پہلو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے، اور وہ ہے بچوں کو وقت دینا، ان کے جذبات کو سمجھنا اور ان کی درست تربیت کرنا۔
جب والدین صبح سے شام تک کام میں مصروف رہتے ہیں تو بچے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اسکول، ٹیوشن یا گھر میں اکیلے گزارتے ہیں۔ بعض اوقات انہیں نانی، دادی یا کسی اور کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ بچوں کی دیکھ بھال تو کر سکتے ہیں، لیکن والدین کی محبت، قربت اور توجہ کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔
بچے اپنے دن بھر کے تجربات، خوشیوں، پریشانیوں اور چھوٹے چھوٹے جذبات اپنے والدین کے ساتھ بانٹنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی بات سنے، ان کے جذبات کو سمجھے اور انہیں اہمیت دے۔
یہ بھی پڑھیے : لکی مروت: مبینہ زہریلی خوراک کھانے سے دو کمسن بچے جاں بحق
لیکن جب یہ موقع بار بار نہیں ملتا تو بچے خاموشی اختیار کرنا شروع کر دیتے ہیں اور رفتہ رفتہ تنہائی ان کی شخصیت کا حصہ بننے لگتی ہے۔
بچے صرف کھانے، کپڑوں اور تعلیم کے محتاج نہیں ہوتے، بلکہ انہیں سب سے زیادہ ضرورت محبت، توجہ، تحفظ اور اپنائیت کے احساس کی ہوتی ہے۔
ایک بچہ جب اپنے والدین کی توجہ سے محروم ہوتا ہے تو اس کے دل میں یہ احساس پیدا ہونے لگتا ہے کہ شاید وہ اہم نہیں۔ یہی احساس آہستہ آہستہ اس کی خود اعتمادی کو کمزور کر دیتا ہے۔ ایسے بچے بعض اوقات ضدی، چڑچڑے اور غصے والے ہو جاتے ہیں، جبکہ کچھ بچے مکمل طور پر خاموش، گم سم اور اندر سے ٹوٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اکثر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بچوں کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں، اس لیے اگر وقت کم بھی دے پائیں تو بہتر سہولیات اس کمی کو پورا کر دیں گی۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
بچے مہنگے تحفوں، اچھے کپڑوں یا بڑی سہولیات سے زیادہ والدین کی موجودگی چاہتے ہیں۔ ان کے لیے سب سے قیمتی لمحہ وہ ہوتا ہے جب ماں یا باپ ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کی بات سنتے ہیں، ان کے جذبات کو سمجھتے ہیں اور انہیں محسوس کرواتے ہیں کہ وہ ان کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔
بچوں کی تربیت صرف نصیحتوں سے مکمل نہیں ہوتی بلکہ یہ والدین کے رویے، کردار اور روزمرہ تعلقات سے پروان چڑھتی ہے۔
بچے اپنے والدین کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ وہ ان کے اندازِ گفتگو، صبر، رویے اور فیصلوں سے اثر لیتے ہیں۔ جب والدین بچوں کے ساتھ وقت نہیں گزارتے تو وہ نہ صرف ان کی غلطیوں کی بروقت اصلاح کرنے سے محروم رہتے ہیں بلکہ ان کی اچھی عادتوں کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کر پاتے۔
نتیجتاً بچے صحیح اور غلط میں فرق کرنے میں مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان میں نظم و ضبط کی کمی پیدا ہونے لگتی ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق بچپن میں والدین کی عدم توجہ بچوں کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات چھوڑ سکتی ہے۔ ایسے بچوں میں خوف، بے چینی، احساسِ محرومی، عدم تحفظ اور غصہ زیادہ پایا جاتا ہے۔
بعض بچے اپنی پڑھائی میں دلچسپی کھو دیتے ہیں جبکہ کچھ بچے توجہ حاصل کرنے کے لیے غلط دوستوں یا غلط سرگرمیوں کا رخ کر لیتے ہیں۔ یہ مسائل وقتی نہیں ہوتے بلکہ اگر بروقت ان پر توجہ نہ دی جائے تو یہ بڑے ہو کر بھی انسان کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں اور عملی زندگی، تعلقات اور فیصلوں کو متاثر کرتے ہیں۔
یہ کہنا درست نہیں کہ والدین کا کام کرنا غلط ہے، کیونکہ آج کے دور میں یہ ایک ضرورت بن چکا ہے۔ اصل مسئلہ کام کرنا نہیں بلکہ بچوں اور مصروفیات کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔
اگر والدین روزانہ کچھ وقت بچوں کے لیے نکالیں، ان سے بات کریں، ان کی بات سنیں اور انہیں اہمیت دیں، تو یہ مختصر وقت بھی ان کی زندگی میں بڑا فرق ڈال سکتا ہے۔
بچے وقت کے ساتھ بڑے ہو جاتے ہیں، مگر ان کا بچپن واپس نہیں آتا۔ اگر آج ان کی بات سننے والا کوئی نہ ہو تو وہ آہستہ آہستہ اپنے جذبات چھپانا سیکھ جاتے ہیں، اور یہی خاموشی والدین اور بچوں کے درمیان فاصلے پیدا کر دیتی ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ واضح ہے کہ بچوں کی بہتر پرورش کے لیے صرف مالی سہولیات کافی نہیں ہوتیں۔ ایک اچھا انسان بنانے کے لیے والدین کی محبت، وقت اور رہنمائی سب سے زیادہ ضروری ہیں۔
اگر والدین اپنی مصروفیات کے ساتھ بچوں کو بھی اہمیت دیں تو وہ نہ صرف اپنے بچوں کا مستقبل بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ ایک بہتر معاشرے کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
