نازیہ سالارزئی
غربت جب کسی گھر کے دروازے پر دستک دیتی ہے تو صرف بڑوں ہی کی زندگی نہیں بدلتی بلکہ بچوں کا بچپن بھی اس کی زد میں آ جاتا ہے۔
وہ ننھے ہاتھ، جو کتابیں تھامنے اور کھیلنے کے لیے بنے ہوتے ہیں، وقت سے پہلے ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے لگتے ہیں۔ یہ بچے اپنی عمر سے پہلے بڑے ہو جاتے ہیں، اور ان کی آنکھوں میں وہ خواب دم توڑنے لگتے ہیں جو ہر بچے کا حق ہوتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں روزانہ ایسے کئی بچے نظر آتے ہیں جو فٹ پاتھوں، بی آر ٹی اسٹاپس، ٹریفک سگنلز اور مساجد کے باہر ماسک، ٹشو یا چھوٹی موٹی چیزیں بیچتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں اکثر کی عمریں 7 سے 10 سال کے درمیان ہوتی ہیں۔
ان معصوم چہروں کو دیکھ کر انسان کا دل اداس ہو جاتا ہے، مگر افسوس اس وقت ہوتا ہے جب ان میں سے کچھ بچے اپنی مجبوری کو ایک مخصوص انداز کی “اداکاری” میں بدل دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مظفرآباد: مسلط کیے گئے نااہل ٹولے سے عوام تنگ آ چکے ہیں، اس نظام سے نجات چاہتے ہیں، سہیل آفریدی
یہ اداکاری کچھ یوں ہوتی ہے کہ وہ جان بوجھ کر اپنے ماسک زمین پر بکھیر دیتے ہیں، سر گھٹنوں پر رکھ کر رونے کی کیفیت بنا لیتے ہیں یا ایسے ظاہر کرتے ہیں جیسے کسی نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہو۔ یہ منظر دیکھ کر لوگ ہمدردی میں ان کے ماسک اٹھا دیتے ہیں، کچھ خرید لیتے ہیں یا بغیر خریدے ہی پیسے دے دیتے ہیں۔
ابتدا میں یہ سب انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت ہوتا ہے، مگر وقت کے ساتھ یہی ہمدردی بعض بچوں کے لیے ایک آسان راستہ بن جاتی ہے۔
مسئلہ صرف چند روپوں کا نہیں، بلکہ اس سوچ کا ہے جو آہستہ آہستہ ان کے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے کہ محنت سے زیادہ ترس کھا کر پیسے لینا آسان ہے۔ جب ایک بچہ کم عمری میں یہ سیکھ لیتا ہے کہ لوگوں کے جذبات کو استعمال کر کے پیسے حاصل کیے جا سکتے ہیں، تو یہ عادت اس کی شخصیت کا حصہ بننے لگتی ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی ایسے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں ایک ہی بچہ مختلف جگہوں پر ایک ہی انداز میں روتا یا مظلوم بن کر بیٹھا دیکھا گیا۔ لوگ پہلے ہمدردی کرتے ہیں، مگر جب حقیقت سامنے آتی ہے تو ان کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ پھر وہ حقیقی ضرورت مند بچوں پر بھی یقین نہیں کرتے۔
یہ بچے صبح سویرے گھر سے نکلتے ہیں اور پورا دن سڑکوں، دھول، دھوپ اور آلودگی میں گزارتے ہیں۔ ان کے جسم تھک جاتے ہیں، جلد متاثر ہوتی ہے، ذہنی دباؤ بڑھتا ہے اور وہ تعلیم سے دور ہوتے جاتے ہیں۔
مسلسل لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے یا رحم کی امید رکھنے سے ان کی خودداری بھی متاثر ہوتی ہے۔ یہی بچے وقت کے ساتھ احساسِ محرومی، چڑچڑے پن اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ خطرناک پہلو ان کی تربیت ہے۔ سڑکیں صرف روزگار کی جگہ نہیں ہوتیں، وہاں ہر طرح کے لوگ، ہر قسم کی زبان اور ہر قسم کے رویے ملتے ہیں۔
ایک بچہ جو روزانہ یہ سب دیکھتا اور سنتا ہے، وہ غیر محسوس طریقے سے انہی چیزوں کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیتا ہے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ ہر ماسک بیچنے والا بچہ اداکاری نہیں کرتا۔ بہت سے بچے واقعی مجبور ہوتے ہیں، اپنے گھر کی بھوک مٹانے کے لیے نکلتے ہیں اور عزت سے محنت کرتے ہیں۔ مگر چند بچوں کی غیر مناسب طریقے کی وجہ سے اصل مستحق بھی شک کی نگاہ سے دیکھے جانے لگتے ہیں۔
یہی معاشرتی بے حسی بعد میں ایک بڑے مسئلے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
چائلڈ لیبر ایک تلخ حقیقت ہے۔ قانون اسے روکتا ہے، مگر غربت اکثر قانون سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہے۔ ایسے میں والدین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وقتی کمائی بچوں کے مستقبل کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ چند سو روپے آج کا چولہا تو جلا سکتے ہیں، مگر کل کی زندگی نہیں سنوار سکتے۔
تعلیم ہی وہ راستہ ہے جو غربت کے دائرے کو توڑ سکتا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں بنیادی تعلیم تقریباً مفت ہے، اور اگر وسائل کم بھی ہوں تو پرانی کتابوں، سادہ لباس یا معمولی سہولتوں کے ساتھ بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ اصل ضرورت وسائل سے زیادہ سوچ اور ترجیح کی ہوتی ہے۔
میں نے ایسے کئی بچوں کو دیکھا ہے جو صبح اسکول جاتے ہیں اور پھر پڑھائی کے بعد کچھ وقت کام بھی کرتے ہیں۔ یہ بچے ثابت کرتے ہیں کہ غربت رکاوٹ ضرور ہے، مگر تعلیم کا راستہ بند نہیں کرتی۔
آخر میں یہی کہنا ہے کہ والدین بچوں کے ہاتھ میں وقتی کمائی نہیں بلکہ مستقل مستقبل دیں۔ کیونکہ بچپن اگر سڑکوں پر گزر جائے تو جوانی اکثر پچھتاوے میں گزرتی ہے۔ بچوں کو ترس نہیں، تعلیم اور بہتر مستقبل کا موقع چاہیے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
