معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے خیبرپختونخوا کابینہ اجلاس کے فیصلوں سے متعلق تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی کابینہ نے خیبرپختونخوا مالی ذمہ داری و قرضہ جات نظم و نسق (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت قرضوں کے حصول کے طریقہ کار کو مزید مؤثر اور سخت بنایا گیا ہے تاکہ غیر ضروری قرضوں کے رجحان میں کمی لائی جا سکے۔

 

انہوں نے کہا کہ بل کا مقصد مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانا اور سرکاری قرضوں کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے علیحدہ ڈیبٹ مینجمنٹ آفس بھی قائم کیا جائے گا۔

 

شفیع جان کے مطابق ترمیم شدہ قانون کے تحت حکومت ہر مالی سال میں غیر مالیاتی اثاثوں میں سرمایہ کاری کو اوسط آمدن کے کم از کم 20 فیصد تک یقینی بنائے گی، جبکہ قرضوں کی ادائیگی کی حد اوسط آمدن کے 5 فیصد تک مقرر کی گئی ہے، جسے خصوصی منظوری سے 7 فیصد تک بڑھایا جا سکے گا۔

 

یہ بھی پڑھیے: کیا دلہن واقعی منحوس ہوتی ہے؟

 

انہوں نے مزید بتایا کہ مجموعی سرکاری قرضے اور حکومتی ضمانتیں اوسط آمدن کے 75 فیصد سے زیادہ نہیں ہوں گی، تاہم خصوصی حالات میں یہ حد 100 فیصد تک بڑھائی جا سکے گی۔

 

 کابینہ نے بجٹ اسٹریٹجی پیپر 2026-27 کی بھی منظوری دی، جس میں ٹیکس و نان ٹیکس آمدن میں اضافے، قرضوں میں کمی، سرمایہ کاری کے بہتر نتائج، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دی گئی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں اصلاحات کے ساتھ سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن، ٹیلی میڈیسن، اسکول مانیٹرنگ سسٹم، ڈیجیٹل اسکلز پروگرام اور سیف سٹی منصوبے بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں۔

 

شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے خیبرپختونخوا جیل رولز 2018 میں ترمیم کی منظوری بھی دی ہے، جس کے تحت قیدیوں کو پردہ نشین خواتین، بزرگوں اور بیمار رشتہ داروں سے ورچوئل ملاقات کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

 

انہوں نے کہا کہ گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت سرکاری افسران کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے پرفارمنس فریم ورک کی منظوری دی گئی ہے، جس کے تحت نمایاں کارکردگی دکھانے والے افسران کو چار بنیادی تنخواہوں تک انعام اور تعریفی اسناد دی جائیں گی۔

 

پشاور میں پولیو کے حوالے سے سپر ہائی رسک یونین کونسلز میں سول ڈسپنسریوں کی تعمیر کے لیے اراضی کی میوٹیشن، منتقلی اور لیز میں خصوصی رعایت کی منظوری بھی دی گئی۔

 

کابینہ نے صحافیوں کے لیے مالی معاونت کے نظام کو مزید مؤثر اور پائیدار بنانے کے لیے خیبرپختونخوا جرنلسٹ ویلفیئر اینڈومنٹ فنڈ (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری بھی دی۔

 

شفیع جان نے واضح کیا کہ کابینہ اجلاس میں اراکین اسمبلی، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق تین بل غور کے لیے پیش کیے گئے، تاہم میڈیا میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو تاحیات مراعات دینے سے متعلق گردش کرنے والی خبریں درست نہیں۔

 

 انہوں نے کہا کہ مجوزہ بل میں ایسی کوئی شق شامل نہیں ہے اور آئین کے آرٹیکل 53(8) کے تحت مراعات صرف اسی مدت تک محدود ہوتی ہیں جب تک نیا اسپیکر عہدہ سنبھال نہیں لیتا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام فیصلے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر قیادت منعقدہ صوبائی کابینہ اجلاس میں کیے گئے۔