سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے وکلا برادری کا بھرپور ساتھ دیا جائے گا اور قوم کے مستقبل کے لیے جلد حتمی کال دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بات مظفرآباد میں سنٹرل بار ایسوسی ایشن کی نومنتخب کابینہ کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

 

انہوں نے کہا کہ وکلا نے ماضی میں بے مثال تحریکیں چلائی ہیں اور آج بھی قوم ان سے اسی کردار کی توقع رکھتی ہے۔

 

 انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے پورے پاکستان سے وکلا کا جرگہ منعقد کیا اور 6 مئی کو قلم چھوڑ ہڑتال کی کال دی ہے، امید ہے وکلا اس میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔

 

 

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 26 اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتیں مفلوج ہیں اور گزشتہ ڈیڑھ سال سے عمران خان کے کیسز سماعت کے لیے مقرر نہیں کیے جا رہے۔

 

 انہوں نے کہا کہ یہ لوگ عمران خان سے خوفزدہ ہیں، ان کی آواز آتی ہے تو کہرام مچ جاتا ہے اور اگر وہ خود باہر آ جائیں تو ان کی نیندیں حرام ہو جائیں گی۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: اینٹی کرپشن کے اختیارات میں کمی کی سفارشات، اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی کتنی مشکل ہوگی؟

 

انہوں نے کہا کہ وہ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہونے کے باوجود بار بار کوشش کے باوجود اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرا سکے۔

 

 ان کے مطابق وہ ججز جن کا ضمیر زندہ ہے وہ بھی وکلا کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ مسلط کیے گئے نااہل ٹولے سے عوام تنگ آ چکے ہیں اور اس نظام سے نجات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 10 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ معیشت اور تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے اور معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ جب تک انسان خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے، اللہ تعالیٰ بھی حالت نہیں بدلتا، اس لیے ہمیں خود کوشش کرنی ہوگی اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے باہر نکلنا ہوگا۔

 

 وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئین اور قانون کے ساتھ جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ ملک و قوم کے مفاد کے خلاف ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے وکلا برادری کے ساتھ کھڑی ہے۔