خیبر پختونخوا میں محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے لیے اعلیٰ افسران سے چھان بین اور پوچھ گچھ کو مزید مشکل بنانے سے متعلق سفارشات تیار کر لی گئی ہیں۔

 

 نئی سفارشات کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اعلیٰ افسران کے خلاف براہِ راست کوئی بھی کارروائی کرنے سے قبل متعلقہ محکمے کی رائے کا انتظار کرے گا، جبکہ افسران سے چھان بین کے لیے بھی مکمل خدوخال اور طریقہ کار مرتب کیے جائیں گے۔

 

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے محکمہ اینٹی کرپشن کے چھان بین کے نظام کو براہِ راست رکھنے کے بجائے مختلف دفاتر کو اس عمل میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ 

 

ذرائع کے مطابق اس وقت چیف سیکریٹری سے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین کی گرفتاری، گریڈ 19 اور اس سے اوپر کے افسران کے خلاف انکوائری کے آغاز، انہی افسران کے خلاف مقدمات کے اندراج، اور گریڈ 18 سے اوپر کے افسران کے خلاف مکمل چالان جمع کروانے کے لیے منظوری لینا لازمی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں مسلسل کمی کے بعد بڑا اضافہ

 

صوبائی حکومت کے ذرائع کے مطابق چیف سیکریٹری کو بھیجے جانے والے مقدمات میں کئی سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

 

 اکثر کیسز میں پیش کیا جانے والا مواد نامکمل اور غیر منظم ہوتا ہے۔ شکایات، ایف آئی آرز اور پراسیکیوٹر کی قانونی رائے ہاتھ سے لکھی ہوئی اور اردو زبان میں ہوتی ہیں، جنہیں باآسانی پڑھنا ممکن نہیں ہوتا، جبکہ ان کا انگریزی ترجمہ بھی شامل نہیں کیا جاتا۔

 

مجوزہ پروٹوکول کے تحت چیف سیکریٹری کو مقدمات بھیجنے سے قبل ایک مکمل کیس پروفائل تیار کی جائے گی، جس میں الزامات کا مختصر بیان، دستیاب شواہد، ملزم افسر کا کردار، اور مالی نقصان یا عوامی اثرات کا جائزہ شامل ہوگا۔ اس کے ساتھ نوٹ میں گرفتاری کی ضرورت، اینٹی کرپشن کے قانونی ونگ یا پراسیکیوٹر کی قانونی جانچ، اور متعلقہ محکمے کی انتظامی رائے بھی شامل کی جائے گی۔

 

مزید برآں چیف سیکریٹری کے سامنے پیش کیے جانے والے ریکارڈ کے لیے ایک باقاعدہ چیک لسٹ بھی تجویز کی گئی ہے، جس کے مطابق فائل میں ٹائپ شدہ اور حقائق پر مبنی بریف، اردو اور انگریزی میں واضح اور قابلِ مطالعہ ایف آئی آر اور شکایت، انکوائری رپورٹ، تمام دستاویزی شواہد، گرفتاری کی ضرورت کی وضاحت، پراسیکیوٹر کی ٹائپ شدہ اور دستخط شدہ قانونی رائے، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کی سفارشات، اور مقررہ مدت میں کارروائی مکمل نہ ہونے کی وجوہات شامل کرنا لازم ہوگا۔

 

دستاویز میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ یہ قانونی تحفظ نہ صرف افسران کی ساکھ اور کیریئر کو بلاجواز نقصان سے بچاتا ہے بلکہ کرپشن کی تحقیقات میں ادارہ جاتی نگرانی کو بھی یقینی بناتا ہے۔