اصغر جان آفریدی
ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ اس وقت ایک ایسے خاموش بحران کی زد میں ہے جس کے اثرات آنے والے برسوں میں نہایت خطرناک صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ علاقے میں پانی کے استعمال اور فراہمی کے حوالے سے کوئی مربوط اور سائنسی پالیسی موجود نہیں۔ چند سال قبل جہاں پانی 50 سے 60 میٹر کی گہرائی پر دستیاب تھا، آج وہ 70 میٹر سے بھی نیچے جا چکا ہے، جو ایک تشویشناک اور خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس صورتحال کی بنیادی وجہ ٹیوب ویلوں کی بے ہنگم اور غیر منظم کھدائی ہے۔ ایک محدود رقبے میں درجنوں ٹیوب ویل لگانا نہ صرف ماحولیاتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو تیزی سے ختم کرنے کا سبب بھی بن رہا ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان منصوبوں کی تقسیم میں میرٹ کی پامالی کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں، جس سے نہ صرف وسائل کا ضیاع ہو رہا ہے بلکہ عوامی اعتماد بھی متاثر ہو رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے تاحال کوئی ایسا جامع منصوبہ سامنے نہیں آیا جو اس بڑھتے ہوئے پانی کے بحران کو مؤثر انداز میں کنٹرول کر سکے۔
یہ بھی پڑھیے: بار بار حج کرنا: لوگوں کے نزدیک یہ دکھاوا کیوں سمجھا جاتا ہے؟
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اور بڑے شہروں میں پانی کی فراہمی کے لیے مرکزی نظام رائج ہے، جہاں بڑی ہیڈ ٹینکیوں کے ذریعے وسیع علاقوں کو منظم انداز میں پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ باڑہ میں بھی اسی طرز پر 10 سے 20 ہزار لیٹر گنجائش کی ہیڈ ٹینکیوں کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے، تاکہ چار سے پانچ مربع کلومیٹر پر مشتمل آبادی کو ایک مربوط نظام کے تحت پانی فراہم کیا جا سکے اور ٹیوب ویلوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔
ایک نہایت مؤثر اور قابلِ تقلید منصوبہ “ڈھنڈونہ” کے نام سے قبیلہ سپاہ میں موجود رہا ہے، جو آج بھی اپنی ساخت کے اعتبار سے موجود ہے۔ ماضی میں اس منصوبے کے ذریعے ایک بڑی آبادی پینے کے صاف پانی سے مستفید ہوتی رہی، اور اس کا پانی قبیلہ شلوبر ٹیل تک پہنچتا تھا۔
اس منصوبے کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس کے لیے نہ بجلی کی ضرورت تھی اور نہ شمسی توانائی کی۔ اس مقصد کے لیے سپاہ میں پانچ بڑے تالاب تعمیر کیے گئے تھے، جن کا انحصار دریائے باڑہ کے پانی پر تھا۔
اگر صوبائی حکومت اور منتخب نمائندے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو اس منصوبے کو دوبارہ فعال بنا کر ایک وسیع علاقے کو بغیر بجلی کے پانی فراہم کیا جا سکتا ہے۔
ان تالابوں کا بنیادی ڈھانچہ آج بھی موجود ہے، ضرورت صرف پائپ لائن بچھانے اور نظام کی بحالی کی ہے۔ اگر اس منصوبے کو بحال کیا گیا تو کئی سالوں تک پینے کے صاف پانی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکتا ہے۔
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اجتماعی مفاد کے لیے لگائے گئے کئی ٹیوب ویل بعد ازاں ذاتی ملکیت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
زمین کے مالکان مختلف وجوہات کی بنیاد پر دیگر افراد کو پانی کی فراہمی بند کر دیتے ہیں، جو ایک سنگین سماجی ناانصافی ہے۔ اس طرزِ عمل کے خلاف مؤثر اور سخت قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کے تحت ایسے عناصر کے خلاف جرمانے اور قید جیسی سزائیں مقرر کی جائیں تاکہ پانی جیسے بنیادی حق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
بدقسمتی سے محکمہ پبلک ہیلتھ اور دیگر متعلقہ ادارے اس سنگین مسئلے پر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔ یہ خاموشی دراصل ایک بڑے بحران کی پیشگی علامت ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہوگی بلکہ زرعی اور معاشی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوں گی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ منتخب قیادت، پالیسی ساز ادارے اور متعلقہ محکمے فوری، مؤثر اور سنجیدہ اقدامات کریں۔ ایک جامع پالیسی تشکیل دی جائے جس میں ٹیوب ویلوں کی حد بندی، پانی کے متبادل ذرائع، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے عملی اقدامات، اور جدید واٹر مینجمنٹ سسٹم شامل ہوں۔
پانی زندگی کی بنیاد ہے، اور اس بنیاد کو نظر انداز کرنا دراصل اپنے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اگر آج فیصلہ نہ کیا گیا تو کل بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ اس لیے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے پرزور گزارش ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ضلع میں پانی ذخیرہ کرنے کے دو بڑے منصوبوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے، جن کی فزیبلٹی رپورٹس مکمل ہو چکی ہیں۔ ان میں سپرہ ڈیم اور جبہ ڈیم شامل ہیں۔
ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف زراعت کو فروغ ملے گا بلکہ زیرِ زمین پانی کی سطح میں بھی بہتری آئے گی۔ مزید برآں، مانڑے ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے سے تقریباً پانچ میگاواٹ بجلی بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔
سپرہ ڈیم کی تکمیل سے علاقے میں زرعی بہتری آ سکتی ہے، کیونکہ موجودہ وقت میں پانی کی کمی کے باعث تحصیل باڑہ کا زرعی شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ اکا خیل، سپاہ، ملک دین خیل، قمبرخیل اور شلوبر جیسے علاقوں کی زرخیز زمینیں بتدریج بنجر ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی زمیندار براہ راست مالی نقصان کا شکار ہیں۔
اگر ان زمینوں کو مطلوبہ مقدار میں پانی فراہم کیا جائے تو نہ صرف زمیندار خوشحال ہوں گے بلکہ صوبے اور ملک کو بھی فائدہ حاصل ہوگا۔
اگر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اپنے دورِ اقتدار میں ان دونوں بڑے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا دیں تو ان کا نام ضلع خیبر میں ایک اچھی مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا، اور یہ اقدام عوام کے لیے ایک بڑی خدمت ثابت ہوگا۔
