گزشتہ روز تھانہ نظام پور کے علاقے دروازگئی میں پولیس ناکہ پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر گاڑی پر فائرنگ کے واقعے میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہو گیا، جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

 

پولیس کے مطابق حفیظ ولد محمد ندیم کی مدعیت میں درج رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گاڑی میں موجود تھے کہ چوکی صابر آباد کے انچارج اے ایس آئی یعقوب خان، محرر عالم شیر اور سپاہی بشارت نے مبینہ طور پر سرکاری اسلحہ سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں عبید اللہ موقع پر جاں بحق جبکہ مدعی زخمی ہو گیا۔

 

واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر احمد شاہ نے مقدمہ نمبر 245، زیر دفعات 302، 324، 427 اور 34 درج کر کے شفاف تحقیقات کا حکم دیا۔ ان کی ہدایت پر ایس پی انوسٹی گیشن شاہ اسد خان کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔

 

تحقیقاتی ٹیم نے نامزد اہلکاروں کو حراست میں لے لیا جبکہ استعمال ہونے والا سرکاری اسلحہ بھی تحویل میں لے کر فرانزک جانچ کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔

 

ڈی پی او احمد شاہ کا کہنا تھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔