ضلع خیبر کی وادی تیراہ کے علاقے اپر باڑہ میں قائم پانچ کمیونٹی سکولز چار سال گزرنے کے باوجود تاحال بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جس کے باعث سینکڑوں طلبہ و طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق ننگروسہ، کنڈاو جماعت، درے وانڈی، سندانہ اور شیخ ملی میں قائم ان سکولز میں تقریباً پانچ سو بچے کھلے آسمان تلے اور درختوں کے سائے میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ شدید گرمی، سردی اور دیگر موسمی سختیوں کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

 

مقامی سماجی رہنماؤں اور عوامی نمائندوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا، متعلقہ پارلیمنٹرینز اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات کے باوجود فیبریکیٹیڈ کمروں کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر جاری ہے، جس سے تعلیمی نظام متاثر ہو رہا ہے۔

 

کوارڈینیٹر خدمت خلق ویلفیئر سوسائٹی اپر باڑہ قاضی فرمان آفریدی نے کہا کہ 2022 میں قائم کیے گئے ان سکولز کو تاحال مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے گئے، جبکہ علاقے کے عوام کئی برسوں سے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

 

انہوں نے مزید بتایا کہ سکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو ماہانہ صرف دس ہزار روپے وظیفہ دیا جا رہا ہے، جو انتہائی ناکافی ہے، جس کے باعث تدریسی عمل کا تسلسل برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

 

مقامی مشران نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کمیونٹی سکولز کو فوری طور پر باقاعدہ کیا جائے، فیبریکیٹیڈ کمروں کی فراہمی میں تاخیر کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ہنگامی بنیادوں پر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔

 

 اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ اور طلبہ کو مفت کتب سمیت دیگر تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔

 

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو علاقے کے بچوں کا تعلیمی مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔