وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 5 اگست کا جلسہ فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوگا اور اس میں آئندہ کا لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی سہولت کے لیے جلسے کا مقام تبدیل کرکے پشاور موٹروے کے قریب کھلے میدان میں منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ تمام پارلیمانی اراکین کو جلسے کی تیاریوں کی ذمہ داریاں بھی سونپ دی گئی ہیں۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اب پرامن احتجاج ہی آخری آئینی راستہ ہے اور آئین ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر 2025 سے تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کیے گئے اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کی گئی، تاہم مخالفین نے ان کوششوں کا مثبت جواب نہیں دیا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت بھی مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی خواہاں تھی۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: نرس شکیلہ ناز کے الزامات مسترد، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس نے انکوائری کی تفصیلات جاری کر دیں

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا، جبکہ دونوں چیف جسٹس صاحبان سے ملاقات کی بھی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایک تقریب کے دوران چیف جسٹس کے سامنے بھی عمران خان سے ملاقات کا مؤقف پیش کیا گیا۔

 

انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ اپنی جماعت کے قائد سے ملاقات ان کا آئینی اور قانونی حق ہے، کیونکہ صوبے کے فیصلے عمران خان کے وژن کے مطابق کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ ان کے بقول، کسی بھی رہنما کی ذاتی سیاسی حیثیت نہیں، عوام نے عمران خان کے نام پر ووٹ دیا، اس لیے ان کے مینڈیٹ کو مسترد کرنا ساڑھے چار کروڑ عوام کی توہین ہے۔

 

وزیراعلیٰ نے الزام لگایا کہ وفاق خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کر رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی فیملی، بہنوں اور ذاتی ڈاکٹروں کو ملاقات اور بہترین علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔

 

انہوں نے کہا کہ عمران خان قوم کا اثاثہ اور ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں۔ ان کے بقول، عمران خان کا مؤقف ہے کہ "فوج بھی میری، ملک بھی میرا"۔

 

9 مئی کے واقعات سے متعلق وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان پر فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزامات لگائے گئے، تاہم اگر ان واقعات کی غیرجانبدار تحقیقات کرائی جائیں تو حقائق سامنے آ جائیں گے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ تمام بیانیوں میں مخالفین کو شکست دینے کے باوجود مسائل حل نہیں ہوئے، اس لیے اب آئینی اور پرامن احتجاج ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔