نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران نے امریکی شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

 

اسلام آباد میں ایران سے مذاکرات کے بعد پریس بریفنگ دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت نے امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے کے لیے اہم اور مؤثر کردار ادا کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں جو کمی رہ گئی وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں تھی، پاکستان نے دونوں ممالک کو قریب لانے کی بھرپور کوشش کی اور معاہدے تک پہنچنے میں مثبت کردار ادا کیا۔

 

نائب امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ 21 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے، جن میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ 

 

انہوں نے کہا کہ امریکا نے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کی اور اپنی شرائط واضح انداز میں پیش کیں۔

 

جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ “اچھی خبر یہ ہے کہ ایران کے ساتھ سنجیدہ گفتگو ہوئی، تاہم بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، اور یہ صورتحال ایران کے لیے امریکا کے مقابلے میں زیادہ نقصان دہ ہو سکتی ہے۔”

 

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا اور امریکا بغیر کسی معاہدے کے واپس جا رہا ہے۔ “ہم ایک سادہ اور واضح تجویز کے ساتھ آئے تھے اور اپنی آخری اور بہترین پیشکش بھی دے دی ہے، اب دیکھنا ہے کہ ایران اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔”

 

جے ڈی وینس نے کہا کہ ایرانی وفد کی جانب سے جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔ “ہمیں اس بات کی ضمانت درکار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، اور یہی امریکی صدر کا بنیادی مقصد بھی ہے۔”

 

انہوں نے کہا کہ امریکا نے اپنی ریڈ لائنز اور ممکنہ لچک دونوں واضح کر دی ہیں، تاہم کچھ معاملات ایسے ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

 

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں متعدد نکات پر اتفاقِ رائے ہوا، تاہم دو اہم امور پر اختلافات برقرار رہے جس کے باعث معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
اپنے بیان میں ترجمان نے کہا کہ ہمیں پہلے ہی اندازہ تھا کہ ایک ہی نشست میں کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہوگا۔
 

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے باوجود پیش رفت مثبت رہی اور دونوں فریقین نے سنجیدہ انداز میں بات چیت کی۔
 

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ اختلافات کو کم کرکے کسی متفقہ حل تک پہنچا جا سکے۔