پاکستان میں اس وقت عوام کے لیے سب سے بڑا خوف سرحدوں پر بڑھتی کشیدگی نہیں، بلکہ گھروں کے اندر بڑھتی ہوئی خاموش پریشانی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، سکڑتا کاروبار، بڑھتے کرائے اور کم ہوتی آمدن نے عام آدمی کی زندگی کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں روزمرہ اخراجات پورے کرنا بھی ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

 

بازاروں کی رونق ماند پڑ رہی ہے، گھروں کے چولہے بجھتے بجھتے بچ رہے ہیں، اور روزانہ کمانے والے افراد کے لیے زندگی پہلے سے کہیں زیادہ دشوار ہو چکی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں ایک ہی طرح کی آوازیں سنائی دیتی ہیں لوگوں کے لیے اصل خطرہ کسی ممکنہ جنگ سے زیادہ مہنگائی ہے، جو روزانہ ان کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔

 

بازار کی سست ہوتی رونق

 

سوات کے گلباغ میں محمد عرفان کی برتنوں کی دکان کبھی گاہکوں سے بھری رہتی تھی، خاص طور پر شادی  بیاہ کے موسم میں۔
“پہلے لوگ گھریلو استعمال کے لیے بھی خریداری کرتے تھے اور جہیز کے لیے بھی، لیکن اب حالات بدل گئے ہیں،” وہ کہتے ہیں۔

ان کے مطابق عیدالفطر سے لے کر عیدالاضحیٰ کے بعد تک کا عرصہ پہلے کاروبار کے لیے بہترین سمجھا جاتا تھا، مگر اس بار بازار میں پہلے جیسی خریداری دکھائی نہیں دے رہی۔
“پچھلے تین ماہ سے کاروبار مسلسل سست ہے، اور پچھلے دو ہفتوں سے تو ایک بھی خریدار نہیں آیا،” وہ بتاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ مسئلہ صرف گاہکوں کی کمی نہیں بلکہ اخراجات میں اضافہ بھی ہے۔
“دکان کا کرایہ بڑھ گیا ہے، روزانہ سفر مہنگا ہو گیا ہے۔ پہلے سو یا ایک سو بیس روپے میں آنا جانا ہو جاتا تھا، اب خرچ مسلسل بڑھ رہا ہے۔”

 

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے سے لوگ بازار آنے سے گریز کرتے ہیں اور غیر ضروری خریداری مؤخر کر دیتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر چھوٹے دکانداروں پر پڑتا ہے۔
“صرف برتنوں کی نہیں، کپڑوں اور دیگر اشیا کی دکانوں پر بھی خریدار کم ہیں۔ کئی بازاروں میں ایک جیسی خاموشی ہے،” وہ کہتے ہیں۔

معاشی دباؤ: ایک وسیع مسئلہ

 

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال کسی ایک شہر یا طبقے تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں پھیل چکی ہے۔ جامعہ سوات کے شعبۂ معاشیات و ترقیاتی مطالعہ کے لیکچرار طارق زیاد خواجہ کے مطابق پاکستان میں بڑھتی غربت اور معاشی دباؤ کے پیچھے کئی بنیادی وجوہات ہیں۔

 

ان کے خیال میں  ایک بڑی وجہ غیر منصوبہ بند کاروبار ہے۔
“بہت سے لوگ ایسے کاروبار شروع کر لیتے ہیں جن میں منافع کی گنجائش کم اور نقصان کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ جب مارکیٹ کی طلب اور طویل مدتی منصوبہ بندی کو نظر انداز کیا جائے تو مہنگائی کے جھٹکے برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے،” وہ کہتے ہیں۔

 

وہ مزید بتاتے ہیں کہ قرض لے کر کاروبار شروع کرنا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
“قرض کے ساتھ واپسی کا دباؤ ہوتا ہے، اور جب شرحِ سود بڑھتی ہے تو اخراجات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اگر آمدن کم ہو اور مہنگائی زیادہ ہو تو چھوٹا کاروباری شخص اپنی کمائی کا بڑا حصہ قرض اور روزمرہ اخراجات میں لگا دیتا ہے۔”

انہو  نے کہا کہ بنیادی اشیائے خورونوش مہنگی ہو جائیں تو لوگ اپنی خریداری صرف ضروری چیزوں تک محدود کر دیتے ہیں، جس سے دیگر کاروبار متاثر ہوتے ہیں۔

 

زرِ مبادلہ اور مہنگائی کا تعلق

 

طارق زیاد خواجہ کے مطابق پاکستان کے معاشی مسائل میں زرِ مبادلہ کی کمی بھی ایک اہم عنصر ہے۔
“جب بیرونی ادائیگیوں کے لیے وسائل کم ہوں تو تیل، خام مال اور دیگر ضروری اشیا مہنگی پڑتی ہیں۔ اس کا اثر صنعتوں، پیداوار اور کاروبار پر پڑتا ہے، اور آخرکار اس کا بوجھ عام آدمی پر منتقل ہو جاتا ہے۔”

ان کا کہنا ہے کہ  پیٹرول پر سبسڈی کا نہ ہونا اور اس پر عائد ٹیکسز بھی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔
“یہ اضافی بوجھ بالآخر عوام تک منتقل ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت طویل مدتی اور مستحکم پالیسیاں اپنائے،” وہ کہتے ہیں۔

 

 

روزگار اور بدلتا معاشی ڈھانچہ

 

معاشی دباؤ کا ایک اہم پہلو روزگار سے جڑا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب بازار میں خریداری کم ہو اور صنعتوں کی رفتار سست ہو جائے تو سب سے پہلے غیر رسمی شعبے سے وابستہ افراد متاثر ہوتے ہیں۔

وہ لوگ جو روزانہ کی بنیاد پر کام کرتے ہیں—جیسے لوڈنگ، ترسیل، چھوٹے خدماتی کام یا ٹرانسپورٹ—ان کی آمدن میں نمایاں کمی آتی ہے۔


متوسط طبقہ جب اپنی خریداری محدود کر دیتا ہے تو اس کا اثر ان تمام طبقات پر پڑتا ہے جو اسی طلب پر انحصار کرتے ہیں۔

اسی طرح کاروبار اور صنعتوں کا آن لائن نظام کی طرف بڑھنا بھی زمینی سطح پر کام کرنے والے افراد کے لیے مواقع کم کر رہا ہے۔ یوں غریب آدمی کا روزگار صرف مہنگائی ہی نہیں بلکہ بدلتے معاشی ڈھانچے سے بھی متاثر ہو رہا ہے۔

 

ایندھن کی قیمتیں اور ان کے اثرات

 

سینئر صحافی طاہر خان کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔
“جب  پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں، اور اس کے بعد تقریباً ہر چیز کی قیمت متاثر ہوتی ہے،” وہ کہتے ہیں۔

ان کے مطابق سامان کی ترسیل مہنگی ہونے سے دکاندار اضافی لاگت کو قیمتوں میں شامل کر دیتے ہیں، جس سے عام صارف مزید متاثر ہوتا ہے۔
“بعض اوقات وہ اشیا بھی مہنگی ہو جاتی ہیں جو مقامی سطح پر دستیاب ہوتی ہیں، کیونکہ مجموعی مہنگائی کا رجحان پورے بازار کو متاثر کرتا ہے۔”

 

عالمی عوامل اور مقامی اثرات

 

طاہر خان کے مطابق پاکستان کی درآمدی معیشت بھی مہنگائی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
“تیل سمیت کئی ضروری اشیا بیرونِ ملک سے آتی ہیں، اور ان کی ادائیگی ڈالر میں ہوتی ہے۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھیں یا ڈالر مضبوط ہو جائے تو مقامی سطح پر مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔”

وہ کہتے ہیں کہ حالیہ علاقائی کشیدگی، خصوصاً ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے تناؤ، نے بھی عالمی تیل منڈی میں غیر یقینی پیدا کی ہے، جس کا اثر پاکستان جیسے ممالک پر پڑ سکتا ہے۔

 

ممکنہ حل اور راستہ

 

ماہرین ک  کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر ایندھن کی قیمتوں میں بڑا ریلیف دینا ممکن نہ ہو تو مقامی سطح پر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر کنٹرول، ترسیل کے نظام کی بہتری، منڈیوں کی مؤثر نگرانی اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام شامل ہیں۔

اسی طرح چھوٹے کاروبار کے لیے آسان شرائط، کم لاگت اور بہتر مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ مسلسل دباؤ کا شکار نہ رہیں۔

 

 

ایک بڑھتا ہوا خدشہ

 

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی، کمزور ہوتی قوتِ خرید، محدود روزگار، قرضوں کا دباؤ اور بدلتی معاشی سرگرمیاں مل کر ایک ایسی صورتِ حال  پیدا کر رہی ہیں جس میں عام آدمی کی زندگی روز بروز مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

بازاروں کی سست پڑتی رونق، چھوٹے دکانداروں کی پریشانی اور ماہرین کی تشویش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک میں معاشی دباؤ ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

 

عام شہری کے لیے سب سے بڑا خطرہ اب کسی ممکنہ جنگ کا نہیں، بلکہ اس غربت کا ہے جو خاموشی سے اس کی روزمرہ زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہےاور شاید اسی لیے محمد عرفان جیسے لوگ یہ کہنے پر مجبور ہیں:
“ہم جنگ سے نہیں، غربت سے مر جائیں گے۔”