پشاور کے تھانہ فقیر آباد کی حدود میں اقبال پلازہ کے قریب فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والی معروف خواجہ سرا سارہ (اصل نام دلبر) لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئی۔ واقعے میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب یہ انکشاف ہوا کہ نامزد ملزم فرحان عرف آدم اور مقتولہ سارہ کے درمیان طویل عرصے سے گہرے دوستانہ مراسم تھے، تاہم قتل کی اصل وجہ تاحال معمہ بنی ہوئی ہے۔
قتل کی وجوہات: بھتہ خوری یا مالی تنازع؟
ذرائع کے مطابق سارہ کے قتل کے پیچھے دو مختلف پہلو سامنے آ رہے ہیں۔ ایک جانب خواجہ سرا برادری اور بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملزم فرحان گزشتہ کئی روز سے سارہ سے 6 لاکھ روپے بھتے کا مطالبہ کر رہا تھا اور رقم نہ ملنے پر اس نے سارہ کو 6 گولیاں مار کر قتل کر دیا۔
دوسری جانب تفتیشی حلقوں میں یہ پہلو بھی زیرِ غور ہے کہ مقتولہ اور ملزم کے درمیان پرانی دوستی تھی، اس لیے قتل کی وجہ بھتہ خوری کے بجائے کوئی دیرینہ مالی لین دین یا ذاتی تنازع بھی ہو سکتا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ واردات کا اصل محرک کیا تھا، تاہم تمام پہلوؤں پر باریک بینی سے تفتیش جاری ہے۔
قانونی کارروائی اور پولیس کے چھاپے
پولیس نے مقتولہ کے ساتھیوں کی مدعیت میں نامزد ملزم فرحان عرف آدم کے خلاف قتل (302) اور اقدامِ قتل (324) کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔
ٹرانس جینڈر کمیونٹی کا احتجاجی الٹی میٹم
خیبر پختونخوا ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی صدر اور منزل فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، میڈم آرزو خان، نے سارہ کے بہیمانہ قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے آئی جی خیبر پختونخوا اور سی سی پی او پشاور سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم چاہے کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، اسے فوری گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جائے۔
آرزو خان نے خبردار کیا ہے کہ اگر دو روز کے اندر ملزم قانون کی گرفت میں نہ آیا تو پوری کمیونٹی فقیر آباد پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنا دے گی اور انصاف کی فراہمی تک احتجاج جاری رکھے گی۔
پشاور میں مقیم خواجہ سرا برادری سارہ کے قتل کے بعد شدید خوف و ہراس کا شکار ہے اور ریاست سے اپنی زندگیوں کے تحفظ اور سماجی وقار کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
