قبائلی ضلع باجوڑ میں صحافی مسلسل خطرات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
انہیں کبھی شدت پسند تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں ملتی ہیں تو کبھی دیگر فریقین کی طرف سے دباؤ ڈالا جاتا ہے یا ہراساں کیا جاتا ہے۔ باجوڑ میں اب تک کئی صحافی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔
پاکستان پریس فاؤنڈیشن کے مطابق 2006 سے اب تک ضلع باجوڑ میں صحافیوں پر 13 حملے ہو چکے ہیں، جن میں ایک صحافی جاں بحق بھی ہوا۔
2007 میں صحافی نور حکیم خان کو سالارزئی میں اس وقت بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا جب وہ گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ بھی کئی صحافی زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: امتحانی مراکز کی نئی تقسیم، طلبہ سے زیادہ والدین کیوں پریشان؟
صحافیوں کو ایک طرف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنی ہوتی ہیں تو دوسری طرف باجوڑ پریس کلب کی عمارت کا مسئلہ بھی ان کے لیے ایک بڑی مشکل بنا ہوا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بدامنی اور کم سہولیات کے باوجود وہ کام کر رہے ہیں، لیکن پریس کلب کا دیرینہ مسئلہ اب تک حل نہیں ہو سکا۔
ان کے مطابق پرانی عمارت میں بہتر سہولیات موجود تھیں، مگر بدامنی کے باعث تقریباً 19 سال قبل پریس کلب کو عارضی عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔ اب صحافی مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس عمارت میں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ بہتر طریقے سے کام کر سکیں۔
باجوڑ پریس کلب کی موجودہ عمارت سکیورٹی کے لحاظ سے محفوظ نہیں۔ یہاں نہ چار دیواری ہے، نہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں اور نہ ہی سکیورٹی اہلکار موجود ہوتے ہیں۔ یہ عمارت بازار کے درمیان واقع ہے، جہاں ہر کسی کا آنا جانا آسان ہے۔
اگست 2023 میں سکیورٹی خدشات کے باعث ضلعی انتظامیہ نے پریس کلب کو بند کر دیا، لیکن ایک سیاسی جماعت کے کارکن دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے اور صحافیوں کو مارا پیٹا۔
اسی طرح جنوری 2023 میں کچھ افراد نے پریس کلب پر پتھراؤ کیا، کمروں کے تالے توڑے اور صحافیوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ ان کے حق میں رپورٹنگ کریں۔ اس کے ساتھ سوشل میڈیا پر بھی صحافیوں کے خلاف مہم چلائی گئی۔
صحافیوں کا مطالبہ ہے کہ اس عارضی عمارت کو دوبارہ تعمیر کیا جائے، یہاں سکیورٹی کا مؤثر نظام بنایا جائے، سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں اور چار دیواری تعمیر کی جائے۔
باجوڑ پریس کلب کے صدر محمد سلیم کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ بہت پرانا ہے اور اس کا مستقل حل ضروری ہے۔ ان کے مطابق 2004 میں خار سکاوٹس کے سامنے موجود عمارت بہتر تھی، وہاں سہولیات بھی تھیں اور لوگوں کی رسائی بھی آسان تھی، لیکن 2006 میں حالات خراب ہونے کے بعد وہ جگہ خالی کروا لی گئی اور پریس کلب کو دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا۔
لوگ پریس کلب کے تالے توڑ کر اندر آ جاتے ہیں
صحافی سجاد کاروان کے مطابق موجودہ عمارت میں بھی کئی مسائل ہیں، تاہم یہ پرانی جگہ کے مقابلے میں اس لیے بہتر ہے کہ یہاں عوام آ جا سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ علاقہ افغانستان کی سرحد کے قریب ہے اور یہاں عوامی مسائل پر بات کرنا بعض اوقات خطرناک ہو جاتا ہے۔
انہوں نے ایک واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ چند ماہ پہلے کچھ لوگ آئے، انہوں نے پریس کلب کے تالے توڑنے کی کوشش کی اور صحافیوں کو اپنی مرضی کی کوریج کرنے پر مجبور کیا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی خبر کے بعد لوگ پریس کلب آ کر صحافیوں کو دھمکاتے ہیں۔
پریس کلب کی اصل عمارت کے بارے میں سجاد کاروان نے بتایا کہ وہ باجوڑ سکاوٹس کے سامنے واقع ہے، جہاں عام لوگوں کی رسائی مشکل ہے۔ اگر حالات خراب ہوں تو وہاں کے راستے بند کر دیے جاتے ہیں، اس لیے صحافی وہاں منتقل نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ عمارت کو ہی بہتر بنا کر مستقل پریس کلب بنایا جائے اور اس کے گرد مضبوط دیوار تعمیر کی جائے۔
ڈان نیوز کے رپورٹر انواراللہ خان، جو گزشتہ 25 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ موجودہ عمارت صحافیوں کے لیے محفوظ نہیں۔ ان کے مطابق یہاں ہر قسم کے لوگ بغیر کسی روک ٹوک کے اندر آ سکتے ہیں اور سکیورٹی کا کوئی نظام موجود نہیں۔
انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی بتایا کہ جب قبائلی اضلاع میں ایف سی آر نافذ تھا، وہ اس کے نقصانات پر رپورٹنگ کرتے تھے جس پر کچھ بااثر لوگ ناراض تھے۔
ایک دن جب وہ پریس کلب جا رہے تھے تو چند مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا، انہیں مارا پیٹا اور اغوا کرنے کی کوشش کی۔ انہیں دھمکی دی گئی کہ وہ یہ کام چھوڑ دیں۔
انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے اصل مسائل سکیورٹی، سہولیات اور پریس کلب تک عوام کی رسائی ہیں۔ اگر موجودہ عمارت میں یہ سہولیات فراہم کر دی جائیں تو مسئلہ کافی حد تک حل ہو سکتا ہے۔
صحافی زاہد جان نے بتایا کہ ایک خبر شائع کرنے پر ایک شخص پریس کلب آیا اور انہیں دھمکیاں دیں۔ ان کے مطابق قبائلی اضلاع میں صحافت کرنا ہمیشہ خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں لوگ تنقید برداشت نہیں کرتے اور اکثر معاملات کو ذاتی بنا لیتے ہیں، یہاں تک کہ گھروں تک پہنچ جاتے ہیں، اس لیے پریس کلب کو محفوظ بنانا اور صحافیوں کو سکیورٹی دینا ضروری ہے۔
باجوڑ پریس کلب کی موجودہ عمارت کی صورتحال
محمد سلیم کے مطابق پریس کلب جس سڑک پر پہلے واقع تھا وہ آج بھی بند ہے۔ انہیں عارضی طور پر خار بازار میں ایک ٹرمینل کے درمیان واقع سی اینڈ ڈبلیو کی عمارت دی گئی، جسے وہ گزشتہ 19 سال سے پریس کلب کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ عمارت محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی ملکیت ہے اور ضلعی انتظامیہ کئی بار اسے خالی کرنے کا کہہ چکی ہے، تاہم صحافیوں کی مزاحمت کے باعث وہ اب تک یہیں موجود ہیں۔
باجوڑ پریس کلب میں رجسٹرڈ ممبران کی تعداد 35 ہے۔ محمد سلیم کے مطابق انہوں نے پرانی عمارت کو اس لیے مسترد کیا ہے کیونکہ وہاں رسائی مشکل ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب تک مکمل امن بحال نہیں ہوتا وہاں عام لوگوں کا جانا ممکن نہیں۔ اگر وہ وہاں منتقل ہوتے ہیں تو پریس کانفرنسز اور عوامی سرگرمیوں میں مشکلات ہوں گی، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ موجودہ عمارت کو ہی بہتر بنایا جائے اور یہاں سکیورٹی کا مناسب انتظام کیا جائے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ سال باجوڑ پریس کلب کو 20 لاکھ روپے گرانٹ اور 5 لاکھ روپے مرمت کے لیے دیے، لیکن یہ رقم ناکافی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات شفیع جان کا کہنا ہے کہ حکومت صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق باجوڑ پریس کلب سمیت دیگر پریس کلبز کو گرانٹس دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ باجوڑ پریس کلب کی عمارت کا مسئلہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے پریس رجسٹرار سیکشن سے متعلق ہے اور صحافی وہاں اپنا مسئلہ پیش کریں تاکہ اس کا حل نکالا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کو تحفظ دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے، باجوڑ پریس کلب کے مسائل سمیت تمام مسائل حل کیے جائیں گے اور صحافیوں کی صحت کی سہولیات کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
