پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان خاندانوں کی واپسی کا عمل تیز ہو گیا ہے، حکومت کی جانب سے طورخم بارڈر کے راستے افغانستان واپسی کی اجازت دے دی گئی ہے۔

 

کسٹم ذرائع کے مطابق سینکڑوں ٹرک طورخم پہنچ چکے ہیں، جہاں گاڑیوں کی مرحلہ وار کلئیرنس جاری ہے، کلئیرنس کے بعد ٹرکوں کو افغانستان داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ حمزہ بابا مزار میں قائم افغان مہاجرین کے ہولڈنگ کیمپ میں مرد، خواتین، بچوں اور بزرگوں پر مشتمل سینکڑوں افراد کو رجسٹریشن کے بعد فلائنگ کوچز کے ذریعے طورخم بارڈر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ سامان بردار ٹرک الگ سے کلئیرنس کے بعد افغانستان روانہ کیے جا رہے ہیں۔

 

حکام کے مطابق وہ گاڑیاں جو افغان مہاجرین کو چھوڑ کر واپس آ رہی تھیں، انہیں بھی پاکستان میں داخلے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

 

 یکم اپریل 2026 کو مختلف اضلاع سے مجموعی طور پر 451 افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا، جن میں 304 مرد، 55 خواتین اور 92 بچے شامل ہیں، 

 

ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں گجرانوالہ سے 79، پشاور سنٹرل جیل سے 157، رحیم یار خان سے 120، مظفر آباد سے 31، خوشاب سے 17، سرگودھا سے 19، میرپور خاص سے 15، پشاور جمعہ خان کیمپ سے 9 اور ساہیوال سے 4 افراد شامل ہیں۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ طورخم بارڈر پر واپسی اور ڈی پورٹیشن کا عمل بدستور جاری ہے اور آئندہ دنوں میں مزید افراد کو مرحلہ وار افغانستان منتقل کیا جائے گا۔