پشاور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی زیر صدارت دہشتگردی سے متاثرہ اقلیتی برادری کے انڈومنٹ فنڈ کی اسسمنٹ کمیٹی کا اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا، جس میں اقلیتی برادری کے حقوق، تحفظ اور فلاح سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے 2013 میں آل سینٹس چرچ کوہاٹی گیٹ پشاور حملے کے متاثرین کو رواں ہفتے مالی معاونت کے چیکس فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور: سابق ڈپٹی اسپیکر محمود جان پر حملے کے مبینہ ملزمان گرفتار، سی سی پی او
کمیٹی نے انڈومنٹ فنڈ کی سیڈ منی 200 ملین روپے سے بڑھا کر 400 ملین روپے کرنے کی منظوری دی، جبکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی رقوم میں نمایاں اضافہ بھی کیا گیا۔
بیواؤں کے لیے امداد 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے، یتیموں کے لیے 5 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے، معذور افراد کے لیے 5 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر 6 لاکھ روپے مقرر کرنے کی ہدایت دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے محکمہ اوقاف میں اقلیتی برادری کے لیے علیحدہ ڈائریکٹوریٹ کے قیام پر ہوم ورک مکمل کرنے اور اقلیتی آبادیوں کی رہائشی کالونیوں کی بحالی کے لیے آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں باقاعدہ اسکیم شامل کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی کا کہنا تھا کہ اقلیتی برادری کا تحفظ اور فلاح حکومت کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے، اور ملکی ترقی میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اقلیتی شہریوں کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں برابر کے حقوق اور مواقع فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، جو کہ عمران خان کے وژن کے مطابق ہے۔
