ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں پاک افغان شاہراہ طورخم روڈ پر ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیورز نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ریلی نکالی اور افغانستان میں گزشتہ چھ ماہ سے پھنسے پاکستانی ڈرائیورز اور گاڑیوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈر کی بندش کے باعث تقریباً 1500 سے زائد پاکستانی گاڑیاں اور 2000 کے قریب ڈرائیورز افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں، جو شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں موجود پاکستانی ڈرائیورز کے پاس اخراجات کے لیے رقم ختم ہو چکی ہے اور کئی افراد انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بیشتر ڈرائیورز بیماریوں میں مبتلا ہیں جبکہ ان کے اہل خانہ شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہیں۔
ٹرانسپورٹرز نے پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری اقدامات کیے جائیں اور طورخم بارڈر کے ذریعے پھنسے ہوئے پاکستانی ڈرائیورز اور ان کی گاڑیوں کو وطن واپس آنے کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایک ہفتے کے اندر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو لنڈی کوتل کے ٹرانسپورٹرز احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پاک افغان شاہراہ کو بند کرنے پر مجبور ہوں گے اور افغانستان جانے والے افغان خاندانوں کی گاڑیوں کو بھی روک دیا جائے گا۔
مظاہرین نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرکے متاثرہ افراد کی مشکلات کا فوری ازالہ کیا جائے۔
احتجاجی ریلی کی قیادت ٹرانسپورٹرز کے مشران رحمان زیب آفریدی، بختیار ملاگوری، محمد شاہ آفریدی، عبداللہ اور سفیر اللہ شینواری نے کی۔
