ریحان محمد

 

ضلع خیبر کی سیاسی، سماجی اور قبائلی تنظیموں نے تیراہ متاثرین کو مکمل معاوضہ دینے، امن و امان کی بحالی، متاثرین کی جلد واپسی اور روزگار کی بحالی کے مطالبات کے ساتھ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا۔

 

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ضلع خیبر خصوصاً وادی تیراہ میں امن و امان کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے جبکہ متاثرین کی جبری نقل مکانی، رجسٹریشن کے عمل میں بے ضابطگیاں اور عوام کو درپیش مسائل تشویشناک ہیں۔ 

 

کانفرنس میں شریک قائدین نے ان تمام مسائل کی ذمہ داری وفاقی و صوبائی حکومت اور ریاستی اداروں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ جبری انخلاء کے بعد بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے۔

 

مقررین کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برس سے وادی تیراہ کے عوام بدامنی کی نشاندہی کرتے اور احتجاج کرتے رہے، تاہم حکومتوں نے کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا، جس کے نتیجے میں لوگوں کو زبردستی بے دخل ہونا پڑا۔

 

 کانفرنس میں دعویٰ کیا گیا کہ حکومت بظاہر آپریشن سے انکار کر رہی ہے لیکن عملی طور پر کارروائیاں جاری ہیں۔

 

اعلامیے میں کہا گیا کہ متاثرین کو فی خاندان ڈھائی لاکھ روپے ریلیف پیکج اور 10 اپریل تک باعزت واپسی کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم بیشتر افراد کو تاحال امداد نہیں ملی اور نہ ہی واپسی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔

 

 مزید کہا گیا کہ تیراہ میں سرگرم دہشتگردی کے اثرات اب باڑہ کے نواحی علاقوں تک پھیل رہے ہیں۔

 

کانفرنس نے الزام عائد کیا کہ متاثرین کے لیے منظور شدہ چار ارب روپے کے فنڈز میں کرپشن ہو رہی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ 

 

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ دیگر مالی معاونت کے لیے بینک آف خیبر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ تیراہ متاثرین کے لیے پیکج بینک آف پنجاب کے ذریعے دیا جا رہا ہے، جس پر سوالات اٹھائے گئے۔

 

شرکاء نے کہا کہ حکومت نے متاثرین کے مکانات اور جنگلات کے تحفظ کی ذمہ داری لینے کا وعدہ کیا تھا، مگر اب جنگلات کی کٹائی اور گھروں کی لوٹ مار کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

 

اہم مطالبات اور تجاویز

 

 اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ تیراہ میں ممکنہ آپریشن اور نقل مکانی سے متعلق 24 رکنی کمیٹی کے ساتھ ہونے والے تمام معاہدے عوام کے سامنے لائے جائیں۔

 

 متاثرین کی باعزت واپسی کے لیے فوری لائحہ عمل تیار کیا جائے اور رجسٹریشن کا عمل 15 دن میں مکمل کیا جائے۔

 

کانفرنس نے پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے سے فوری طور پر فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ ترقیاتی منصوبوں کا واضح لائحہ عمل بھی پیش کرنے پر زور دیا گیا۔ ریلیف پیکج اور کرایوں کی مد میں دی گئی رقوم کی تفصیلات پبلک کرنے، مبینہ کرپشن کی تحقیقات اور ذمہ داروں کو سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

 

اعلامیے میں کہا گیا کہ باڑہ میں بگڑتی صورتحال پر فوری توجہ دی جائے، جنگلات کی کٹائی میں ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے اور شہداء پیکج کو بڑھایا جائے۔ مزید یہ کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے لائی جائیں۔

 

کانفرنس نے مطالبہ کیا کہ تیراہ میں روزگار سے محروم افراد کو معاوضہ دیا جائے اور سابقہ قبائلی اضلاع میں حکومتی رٹ بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ 2018 کے انضمام کے بعد ترقیاتی کاموں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات اور فنڈز کے استعمال کا غیر جانبدار آڈٹ کرانے پر بھی زور دیا گیا۔

 

اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اگر مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ کیا گیا تو ضلع خیبر کی تمام سیاسی جماعتیں مشترکہ احتجاج کا راستہ اختیار کریں گی۔

 

متاثرین کی موجودہ صورتحال

 

 ضلعی حکام کے مطابق وادی تیراہ کے 37 ہزار متاثرین کو ٹوکن جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ 34 ہزار کو کرائے کی مد میں ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ 

 

حکام کا کہنا ہے کہ تصدیق کے لیے 70 رکنی ٹیم کام کر رہی ہے، جس میں 24 رکنی کمیٹی، پولیو عملہ اور ضلعی انتظامیہ شامل ہیں۔

 

ابتدائی مرحلے میں 14 ہزار خاندانوں کی تصدیق مکمل ہو چکی ہے جبکہ 12 ہزار متاثرہ خاندانوں کو معاہدے کے تحت 2 لاکھ 40 ہزار روپے سمز کے ذریعے منتقل کرنے کے لیے دستاویزات پی ڈی ایم اے کو ارسال کر دی گئی ہیں۔

 

کانفرنس میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما عبدالرزاق آفریدی، سابق ایم پی اے شفیق آفریدی، ایڈوکیٹ دانش، جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما سید کبیر، سماجی رہنما آفتاب خان، پاکستان عوامی لیگ کے رہنما ملک عطاء اللہ، تحریک متاثرین تیراہ کے ترجمان صحبت خان آفریدی، معروف کاروان کے رہنما اظہر خان اور ڈاکٹر شیر شاہ شریک ہوئے۔

 

اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما ظاہر شاہ، جے یو آئی کے رکن اور چوبیس رکنی کمیٹی کے رکن مولانا خضرت خان اور مولانا عزت اللہ نے بھی کانفرنس میں شرکت کی۔