علی افضل

 

ایران پر اسرائیلی و امریکی حملوں کے بعد پاکستانی زائرین اور طلبہ کی بڑی تعداد وطن واپس پہنچ گئی ہے، جبکہ ایران میں موجود افراد نے موجودہ صورتحال سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران سے زائرین کی واپسی کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔

 

 ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے حاجی گلفام حسین کے مطابق ان کے ساتھ جانے والے بیشتر زائرین حملوں سے قبل ہی فضائی راستے سے پاکستان واپس آ گئے تھے، جبکہ دیگر افراد نے تفتان بارڈر کے ذریعے وطن واپسی اختیار کی۔

 

ایران میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کرنے والی طالبات بی بی مریم اور شیرین بی بی نے بتایا کہ وہ قضوین میں فارسی زبان کا کورس مکمل کر کے یونیورسٹی میں داخلہ لے چکی تھیں، تاہم حالیہ حملوں کے باعث انہیں تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس آنا پڑا۔

 

 شیرین بی بی کے مطابق حملوں میں شدت کے بعد طلبہ کو محدود سامان کے ساتھ فوری واپسی کی ہدایات دی گئیں اور سرکاری گاڑیوں کے ذریعے انہیں تفتان بارڈر منتقل کیا گیا۔

 

طالبات نے بتایا کہ تفتان بارڈر پر قائم پاکستان ہاؤس میں زائرین کے لیے مفت رہائش اور کھانے کا انتظام کیا گیا تھا، جبکہ تفتان سے کوئٹہ اور پھر اسلام آباد تک مفت ٹرانسپورٹ بھی فراہم کی گئی۔

 

بی بی مریم نے امید ظاہر کی کہ ایران میں جلد امن قائم ہوگا تاکہ وہ اپنی تعلیم دوبارہ شروع کر سکیں۔ ان کے مطابق حملوں کے باوجود ایران میں معمولات زندگی بڑی حد تک جاری ہیں، بازار کھلے ہیں اور کاروباری سرگرمیاں بھی برقرار ہیں۔

 

سکردو سے تعلق رکھنے والے فری لانسر صحافی حافظ محمد آصف، جو قم میں مدرسہ المصطفیٰ میں زیر تعلیم ہیں، نے بتایا کہ بمباری کے باوجود شہریوں کے حوصلے بلند ہیں۔ ان کے مطابق دیگر جنگی حالات کے برعکس ایران میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

 

انہوں نے مزید بتایا کہ بعض دکانداروں اور سبزی فروشوں نے ضرورت مند افراد کے لیے مفت اشیاء فراہم کرنے کے اعلانات بھی کیے، جو قابلِ تحسین اقدام ہے۔ ان کے مطابق ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر عوام پہلے ہی ضروری اشیاء ذخیرہ کر چکے تھے، جس سے مشکلات میں کمی آئی۔

 

ادھر ایران میں زیر تعلیم مولانا شبیر محافظی کے مطابق ایک اسکول پر بمباری کے نتیجے میں تقریباً 200 بچیوں کی شہادت کے بعد تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں اور طلبہ تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے منتظر ہیں۔

 

کئی برس سے ایران میں مقیم مولانا امان جعفری کا کہنا ہے کہ ایرانی قوم شہادت کو اعزاز سمجھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بمباری کے باوجود عوام کے حوصلے بلند ہیں۔

 

 انہوں نے کہا کہ اگر مسلم ممالک ایران کا ساتھ دیں تو خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے اور اسرائیلی جارحیت کا مؤثر جواب دیا جا سکتا ہے۔