پشاور ہائیکورٹ نے 12 افغان مہاجرین کی جانب سے ملک بدری روکنے کے لیے دائر درخواستوں پر وزارت سیفران کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل افغان شہری ہیں جو خراسان کیمپ میں رہائش پذیر ہیں اور انہوں نے قیام کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر سے رجوع کر رکھا ہے۔
وکیل کے مطابق ان کی درخواستیں تاحال زیر التواء ہیں، اس لیے جب تک ان پر فیصلہ نہیں ہو جاتا، ان مہاجرین کی ملک بدری روکی جائے۔
سماعت کے دوران ایف آئی اے حکام کی جانب سے عدالت میں جواب بھی جمع کرایا گیا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد وزارت سیفران کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 روز میں جواب طلب کر لیا اور مزید سماعت ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی، جس دوران درخواست گزاروں کے وکیل کاشف جان ایڈووکیٹ، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔
