عظمیٰ اقبال
کبھی سوات کے سیب، آڑو اور خوبانی ملک بھر میں اپنی مٹھاس اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے، مگر آج یہی باغات تیزی سے ماضی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی، بار بار آنے والے سیلاب، بے وقت بارشیں، ژالہ باری، بیماریوں اور زرعی زمین کے بدلتے استعمال نے سوات کی باغبانی کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ مقامی باغبانوں کے مطابق نہ صرف ان کی آمدنی متاثر ہوئی بلکہ اس شعبے سے وابستہ ہزاروں افراد کا روزگار بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔
سوات کی سرسبز وادی، جو کبھی خوش ذائقہ اور معیاری پھلوں کے باغات کے لیے مشہور تھی، اب تیزی سے اپنی یہ شناخت کھوتی جا رہی ہے۔ یہاں پیدا ہونے والے پھل ایک وقت میں ملک بھر میں خاص مانگ رکھتے تھے، مگر بدلتے حالات کے باعث آج کئی علاقوں میں باغات ختم ہوتے جا رہے ہیں۔

چار باغ سے تعلق رکھنے والے باغبان زرولی کے مطابق، ان کے پاس سیب کے کئی باغات تھے، مگر 2010 کے سیلاب نے ان کے باغات مکمل طور پر تباہ کر دیے۔
وہ کہتے ہیں کہ“سیلاب کے بعد میں نے کئی بار دوبارہ سیب کے باغات لگانے کی کوشش کی، لیکن وہ پہلے جیسے کبھی نہ ہو سکے۔
سوات کے سیب اپنی مٹھاس کی وجہ سے بہت مشہور تھے اور منڈی میں بے حد پسند کیے جاتے تھے، مگر اب پورے سوات میں سیب کے باغات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔
زرولی کے مطابق، صرف سیب ہی نہیں بلکہ خوبانی کے باغات بھی اب پہلے جیسی پیداوار نہیں دے رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلسل نقصان، غیر یقینی موسمی حالات اور کم ہوتی پیداوار نے انہیں باغبانی سے دور کر دیا اور بالآخر انہوں نے یہ پیشہ چھوڑ دیا۔
دوسری جانب سوات کے علاقے علم گنج سے تعلق رکھنے والے باغبان رحمت علی کے مطابق، ان کے پاس آڑو کے باغات تھے جن سے انہیں اچھا خاصا منافع حاصل ہوتا تھا۔ ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ ان سے آڑو خریدنے آتے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ آڑو کے باغات سے ہمارا گھر چلتا تھا۔ میرے ساتھ پچاس سے زیادہ لوگ کام کرتے تھے، جبکہ سینکڑوں افراد بالواسطہ طور پر اس کاروبار سے وابستہ تھے۔ لیکن اب آڑو کا پھل بار بار بیماریوں کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ کئی بار دوبارہ آغاز کی کوشش کی، مگر ہر بار یا بیماری نے نقصان پہنچایا یا ژالہ باری نے۔رحمت علی کے مطابق، مسلسل نقصانات کے بعد ان جیسے کئی باغبان یہ پیشہ چھوڑ چکے ہیں۔
علم گنج ہی سے تعلق رکھنے والے شوکت علی کا کہنا ہے کہ ان کے خوبانی کے باغات بھی تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔
ان کے مطابق:“بے وقت بارشیں، مسلسل موسمی بے اعتدالی اور ژالہ باری نے ہر سال باغات کو نقصان پہنچایا۔ پھل پکنے سے پہلے ہی تباہ ہو جاتا تھا، اس لیے نقصان برداشت کرنا مشکل ہو گیا۔”
مقامی باغبانوں کے تجربات کو اگر سرکاری اعداد و شمار سے جوڑا جائے تو صورتحال مزید تشویشناک نظر آتی ہے۔
ڈاکٹر افتخار احمد، ضلعی ڈائریکٹر زراعت توسیع سوات کے مطابق، سوات میں سیب کے باغات میں تقریباً 95 فیصد جبکہ گزشتہ دس برسوں میں مجموعی باغات میں 90 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ان کے مطابق اس تباہی کی بنیادی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلی، درجہ حرارت میں اضافہ، بارشوں کے نظام میں بگاڑ، بار بار آنے والے سیلاب، ژالہ باری، کیڑوں اور بیماریوں میں اضافہ، غیر معیاری کھادوں اور زرعی ادویات کا استعمال، پرانے و کمزور باغات، جدید باغبانی طریقوں کی کمی اور زرعی زمین کا رہائشی مقاصد کے لیے استعمال شامل ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ سیب جیسے پھلوں کو بہتر پیداوار کے لیے مخصوص ٹھنڈے دورانیے یعنی "چِلنگ آورز" درکار ہوتے ہیں، مگر درجہ حرارت میں اضافے اور بدلتے موسمی رجحانات نے اس قدرتی نظام کو متاثر کیا، جس کے باعث پیداوار اور معیار دونوں متاثر ہوئے۔
ان کے بقول، بار بار آنے والے سیلابوں نے نہ صرف درختوں کو نقصان پہنچایا بلکہ زمین، مٹی اور آبپاشی کے نظام کو بھی شدید متاثر کیا۔ کئی باغات مکمل طور پر ختم ہو گئے، زرخیز مٹی بہہ گئی اور بار بار نقصان کے باعث بہت سے باغبانوں نے یہ پیشہ چھوڑ دیا۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ باغات کے خاتمے کی ایک بڑی وجہ زرعی زمین پر رہائشی تعمیرات بھی ہیں، جس کی وجوہات میں آبادی میں اضافہ، زمین کی بڑھتی قیمتیں، شہری پھیلاؤ، کمزور منصوبہ بندی اور قوانین پر عملدرآمد کی کمی شامل ہیں۔ نتیجتاً جہاں کبھی باغات تھے، وہاں اب مکانات اور پلازے تعمیر ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر افتخار احمد کے مطابق اس تبدیلی کے اثرات صرف فصلوں تک محدود نہیں رہے بلکہ مقامی معیشت تقریباً 45 فیصد متاثر ہوئی ہے۔ پیداوار میں کمی، باغبانوں کی آمدنی میں نمایاں کمی اور روزگار کے مواقع محدود ہونے کے ساتھ سوات کی زرعی شناخت بھی متاثر ہوئی ہے۔
تاہم، ان کے مطابق بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ حکومت کسانوں کو سبسڈی، تربیت، تکنیکی رہنمائی، بہتر پودے اور جدید باغبانی طریقوں سے روشناس کرا رہی ہے۔

جدید باغات کے قیام، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ اقسام، جدید آبپاشی نظام، ہائی ڈینسٹی باغات اور بین الفصلی کاشت کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ کسانوں کو منڈیوں تک رسائی اور فنی تربیت فراہم کرنے کے لیے مختلف پروگرام بھی جاری ہیں۔
