عبد الکریم 

 

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث مشرقِ وسطیٰ براہِ راست متاثر ہو رہا ہے، جہاں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ تاہم اس جنگ کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہے بلکہ ایران سے متصل پاکستان کا صوبہ بلوچستان بھی معاشی اور اقتصادی طور پر شدید متاثر ہو رہا ہے۔

 

بلوچستان میں صنعتی ڈھانچہ نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث یہاں کے عوام کا بڑا انحصار سرحدی تجارت (بارڈر ٹریڈ) پر ہے۔ ایران سے آنے والی اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان اس خطے کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

 

موجودہ جنگی صورتحال کے باعث ایران سے بلوچستان میں اشیاء کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹوں میں ایرانی اشیائے خورونوش اور دیگر سامان کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: کچرے سے ایندھن بنانے کا منصوبہ منظور، زرمبادلہ کی بچت کیسے ہوگی اور روزگار میں کیسے اضافہ ہوگا؟

 

کوئٹہ میں واقع بڑیچ مارکیٹ ایرانی سامان کی سب سے بڑی منڈی سمجھی جاتی ہے۔ یہاں آٹے کے خمیر سے لے کر ایرانی کمبل، قالین اور خشک میوہ جات تک ہر چیز دستیاب ہوتی ہے، جو عموماً مقامی اشیاء کے مقابلے میں کم قیمت اور بہتر معیار کی ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف کوئٹہ بلکہ ملک کے دیگر صوبوں سے بھی خریدار یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

 

 

کوئٹہ کے رہائشی عزت اللہ بتاتے ہیں کہ وہ عید کی تیاری کے سلسلے میں بڑیچ مارکیٹ آئے ہیں اور خشک میوہ جات خریدنا چاہتے تھے، لیکن قیمتیں اب آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق پستہ جو پہلے تین ہزار روپے فی کلو ملتا تھا، اب بڑھ کر پینتیس سو روپے تک پہنچ چکا ہے، جو ایک عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔

 

عزت اللہ مزید کہتے ہیں کہ بڑیچ مارکیٹ ہمیشہ غریب طبقے کے لیے سستی اور معیاری اشیاء کا ذریعہ رہی ہے، لیکن جنگ کے باعث یہاں بھی مہنگائی نے ڈیرے ڈال لیے ہیں۔

 

دوسری جانب گل محمد، جو بڑیچ مارکیٹ میں ایرانی سیرامکس کا کاروبار کرتے ہیں، نے بتایا کہ ان کا زیادہ تر سامان ایران کے شہروں اصفہان اور تبریز سے آتا ہے، مگر جنگی حالات کے باعث سپلائی متاثر ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق سامان کی کمی اور عید کے باعث طلب میں اضافے نے قیمتوں میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔

 

گل محمد کے مطابق بڑیچ مارکیٹ سے پورے ملک میں ایرانی سامان سپلائی کیا جاتا ہے، جس میں گھی، بسکٹ، کیک، خشک میوہ جات، ڈبہ بند لوبیا، مچھلی، ملائی سمیت دیگر خوراکی اشیاء شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کمبل، چٹائیاں، قالین اور ایرانی کولر بھی بڑی تعداد میں فروخت ہوتے ہیں، جنہیں ملک بھر میں پسند کیا جاتا ہے۔

 

 

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر جنگی صورتحال مزید طول پکڑتی ہے تو ان کا کاروبار مکمل طور پر بند ہونے کا خطرہ ہے۔

 

واضح رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 909 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے، جبکہ گوادر اور چاہ بہار کی سمندری پٹی بھی دونوں ممالک کو آپس میں جوڑتی ہے۔ ایرانی سامان تفتان، ماشکیل، پنجگور، گوادر، مندبلو اور جیونی کے سمندری راستے سے پاکستان لایا جاتا ہے۔

 

ان سرحدی علاقوں میں رہنے والے ہزاروں افراد کا روزگار اسی بارڈر ٹریڈ سے وابستہ ہے، اور موجودہ صورتحال نے نہ صرف تجارت بلکہ ان کی روزمرہ زندگی کو بھی شدید متاثر کر دیا ہے۔