خیبر کے علاقے لنڈی کوتل پولیس نے جعلی دستاویزات کے ذریعے غیر قانونی بارڈر کراسنگ میں ملوث ایک گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ ان کے قبضے سے ایک لاکھ 32 ہزار روپے بھی برآمد کر لیے گئے۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد رقم کے عوض جعلی دستاویزات تیار کرکے افغانی اور پاکستانی شہریوں کو غیر قانونی طور پر بارڈر پار کرانے میں ملوث تھے۔
یہ بھی پڑھیے: چارسدہ میں شیخ ادریس کی شہادت کے بعد کیا ہو رہا ہے؟ اصل صورتحال سامنے آگئی
پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وقار احمد کی خصوصی ہدایات پر کی گئی، جس کے تحت ایس ایچ او لنڈی کوتل عشرت شینواری نے افغان ہولڈنگ کیمپ، طورخم اور دیگر مقامات پر چیکنگ کا عمل سخت کیا۔
کارروائی کے دوران پولیس نے جعلی مینی فیسٹ کی کاپیوں کے ذریعے شہریوں کو بارڈر پار کرانے والے نیٹ ورک کا سراغ لگا کر اسے بے نقاب کیا۔
گرفتار ملزمان میں سلیم، سید محمد شاہ، شیر زمان، عبداللہ، ذاکر اور ایان شامل ہیں، جن کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
ایس ایچ او لنڈی کوتل عشرت شینواری کا کہنا ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ قانون شکنی میں ملوث کسی بھی فرد کے ساتھ سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور عوام سے اپیل کی کہ ایسے عناصر کی نشاندہی میں پولیس سے تعاون کریں۔
