لوئر دیر اور ضلع خیبر میں صحافیوں کے خلاف پیش آنے والے حالیہ واقعات پر صحافتی تنظیموں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں باڑہ پریس کلب کے وفد نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) خیبر وقار احمد سے ملاقات کی، جس میں سی ٹی ڈی اہلکاروں کی جانب سے صحافیوں کی گرفتاری اور سینئر صحافی قاضی رؤف پر مبینہ تشدد کے واقعے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
صحافیوں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ وفد نے واضح کیا کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی تک پولیس کی کوریج کے بائیکاٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا۔
یہ بھی پڑھیے: ڈیرہ اسماعیل خان: بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن، متعدد اہلکار معطل، سینکڑوں مقدمات درج
بعد ازاں ڈی پی او خیبر وقار احمد نے باڑہ پریس کلب کا دورہ کیا اور صحافیوں سے ملاقات کے دوران واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معذرت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ تاہم صحافیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ عملی کارروائی تک بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا۔
یاد رہے کہ چند دن قبل باڑہ میں احتجاج کی کوریج کے بعد صحافی قاضی رؤف اپنے دیگر صحافی ساتھیوں کے ساتھ جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ادھر جنوبی وزیرستان لوئر کی صحافتی تنظیم ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا نے بھی باڑہ میں صحافیوں پر مبینہ پولیس تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔
پریس کلب کے صدر قسمت اللہ وزیر نے کہا کہ احتجاجی مظاہرے کی کوریج کے دوران صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک قابلِ افسوس ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔
دوسری جانب لوئر دیر میں چکدرہ پریس کلب میں صحافیوں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں سینئر صحافی اور چکدرہ پریس کلب کے چیئرمین محمد اسرار خان پر حملے کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ حملے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے جبکہ صحافیوں کے خلاف دھمکیوں اور حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا بھی اعلان کیا گیا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل لوئر دیر کے علاقے شالم بابا میں نامعلوم افراد نے سینئر صحافی محمد اسرار خان پر حملہ کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئے تھے۔ مختلف سیاسی رہنماؤں اور صحافتی تنظیموں نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
واقعے کے خلاف مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں نے صحافی محمد اسرار کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت کی ہے۔
