وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور رنگ روڈ ناردرن سیکشن کے پیکج ون کا افتتاح کر دیا، جس کے تحت 2.1 کلومیٹر مسنگ لنک دو ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا۔

 

 اس موقع پر انہوں نے کہا کہ رنگ روڈ کے باقی پیکجز پر کام تیزی سے جاری ہے جبکہ آؤٹر رنگ روڈ منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی بھی جلد مکمل کر لی جائے گی۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور نئی بھرتیوں کا اہم اعلان

 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 200 ارب روپے مالیت کا پشاور ری وائیٹلائزیشن منصوبہ شہر کی ترقی اور جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک جامع ترقیاتی پیکج ہے، جس کے تحت اب تک 171 ارب روپے کے منصوبے منظور کیے جا چکے ہیں۔ 

 

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے پہلے بس ریپڈ ٹرانزٹ پشاور اور اب پشاور ری وائیٹلائزیشن منصوبے کی صورت میں عوام کو بڑے ترقیاتی منصوبے دیے ہیں۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پشاور صوبے کا دارالحکومت ہے اور اس کی خوبصورتی پورے صوبے کی نمائندگی کرتی ہے۔ انہوں نے منصوبے پر کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں تو سامنے لائے جائیں، حکومت فوری کارروائی کرے گی۔

 

محمد سہیل آفریدی نے وفاقی مالیاتی تقسیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی میں خیبرپختونخوا کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے اور ضم اضلاع کی آبادی کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا۔

 

 ان کے مطابق اگر این ایف سی فارمولے پر نظرثانی کی جائے تو صوبے کا حصہ 14.6 فیصد سے بڑھ کر 19 فیصد ہو سکتا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا روزانہ 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر رہا ہے، جس میں سے صرف 150 استعمال ہوتی ہے جبکہ باقی وفاق اور دیگر صوبوں کو فراہم کی جا رہی ہے، حالانکہ آئین کے مطابق وسائل پر پہلا حق صوبے کا ہے۔

 

 انہوں نے بجلی کی پیداوار میں بھی صوبے کے اضافی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے اسے صوبائی حق قرار دیا۔

 

بریفنگ میں بتایا گیا کہ رنگ روڈ ناردرن سیکشن کے پہلے مرحلے کی مجموعی لاگت 9.6 ارب روپے ہے جبکہ ورسک روڈ سے ناصر باغ روڈ تک مزید تین پیکجز پر کام جاری ہے اور دوسرے و تیسرے مرحلے کے ٹینڈرز بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔