زلان خان آفریدی 

 

یومِ مزدور کے موقع پر دنیا بھر میں محنت کشوں کے حقوق اور ان کے بہتر مستقبل کی بات کی جا رہی ہے، لیکن ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل اور طورخم میں سینکڑوں مزدور گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری طورخم بارڈر کی بندش کے باعث شدید معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم تجارتی گزرگاہ طورخم بارڈر کی بندش نے مقامی سطح پر روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں افراد کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اندازاً 2500 سے زائد مزدور براہِ راست بے روزگار ہو چکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں خاندان بالواسطہ طور پر متاثر ہوئے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: شمالی وزیرستان: درپہ خیل میں ملک سیف اللہ کے قتل کے بعد مقامی لوگوں اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ

 

یہ مزدور زیادہ تر لوڈنگ، ان لوڈنگ، ٹرانسپورٹ اور سرحدی تجارت سے وابستہ تھے، اور ان کی آمدن کا انحصار مکمل طور پر روزانہ کی مزدوری پر تھا۔ بارڈر بند ہونے کے بعد ان کا تمام کام رک گیا ہے، جس کے نتیجے میں گھروں میں آمدن کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔

 

 

مسلسل آٹھ ماہ سے بے روزگاری کے باعث صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔ کئی گھروں میں کھانے پینے کی بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہو رہی ہے۔

 

 بعض مزدوروں کو اپنی روزگار کی واحد اشیاء، جیسے ہاتھ گاڑیاں ( ریڑھیاں)، فروخت کرنا پڑی ہیں تاکہ وقتی طور پر گھریلو اخراجات پورے کیے جا سکیں۔

 

 

 

ایک متاثرہ مزدور اکبر نے بتایا کہ وہ روزانہ کی مزدوری سے اپنے گھر کا نظام چلاتے تھے، لیکن اب کئی مہینوں سے کام نہ ہونے کے باعث حالات انتہائی مشکل ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق بعض اوقات گھر میں کھانے کے لیے بھی کچھ موجود نہیں ہوتا۔

 

مقامی افراد اور مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بارڈر کی بندش ایک حساس مسئلہ ضرور ہے، تاہم اس سے متاثر ہونے والے محنت کشوں کے لیے کسی قسم کے ریلیف یا متبادل روزگار کا انتظام نہ ہونا تشویشناک صورتحال ہے۔

 

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ طورخم بارڈر کے مسئلے کا فوری حل نکالا جائے، متاثرہ مزدوروں کے لیے ہنگامی مالی امداد فراہم کی جائے، اور سرکاری و ترقیاتی منصوبوں میں ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔

 

یومِ مزدور کے موقع پر یہ صورتحال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ محنت کش کسی بھی معاشرے کی معیشت میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، اور ان کے مسائل کو نظر انداز کرنا سماجی اور معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔