شمالی وزیرستان کے علاقے درپہ خیل میں مقامی قبائل اور عسکریت پسندوں کے درمیان اس وقت شدید جھڑپ شروع ہو گئی جب درپہ خیل قوم کے نوجوان اور بااثر رہنما ملک سیف اللہ کو ان کے گھر کے سامنے فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔
اس واقعے کے بعد علاقے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی اور دونوں طرف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے: باجوڑ: منیبہ حسین نے نمایاں کامیابی حاصل کرکے نیا ریکارڈ قائم کردیا
مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز عسکریت پسندوں کے کچھ افراد نے علاقے کی ایک مسجد پر قبضہ کر لیا تھا، تاہم ملک سیف اللہ نے مقامی عمائدین کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے انہیں وہاں سے نکال دیا تھا۔
آج صبح مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کا ایک بڑا گروپ علاقے میں داخل ہوا اور ملک سیف اللہ کو گھر سے باہر بلا کر فائرنگ کر دی، جس کے بعد مقامی افراد بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل آئے اور حملہ آوروں کا محاصرہ کر لیا۔ اس کے نتیجے میں دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
جھڑپ کے دوران چار مقامی افراد زخمی ہوئے جن میں یعقوب، فضل کریم، مجاہد اور ایک نامعلوم شخص شامل ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر میرانشاہ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق علاقے کے لوگوں نے حملہ آوروں کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے جبکہ جھڑپ میں دو عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔
صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور مزید جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
