عبد القیوم آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور نئی بھرتیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور میرٹ و شفافیت کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر بھرتیاں جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے میں ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کی ریویمپنگ کا عمل تیزی سے جاری ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز کی بھی اپ گریڈیشن کی جائے گی، جس سے بڑے ہسپتالوں پر دباؤ کم ہوگا اور ریفرل کیسز میں واضح کمی آئے گی۔
یہ بھی پڑھیے: آٹھ ماہ سے بند طورخم بارڈر: یومیہ مزدور کیسے متاثر ہوئے اور یومِ مزدور پر حکومت سے کیا مطالبہ کیا گیا؟
وزیراعلیٰ کے مطابق صوبائی حکومت 2400 ڈاکٹرز بھرتی کر رہی ہے جن میں 250 ڈینٹل سرجن بھی شامل ہیں، جبکہ 27 ڈینٹل اسپیشلسٹ پہلے ہی تعینات کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں ہاؤس آفیسرز کے وظائف میں اضافہ بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 13 سالوں میں صحت کے شعبے کا بجٹ 3 ارب روپے سے بڑھا کر 275 ارب روپے تک پہنچا دیا گیا ہے، جو اس شعبے میں غیر معمولی توسیع اور بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کچ ہسپتال منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی عدم تعاون اور فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہے، تاہم حکومت نے وفاق کو فنڈز کی فراہمی سے آگاہ کر دیا ہے اور اگر فنڈز نہ ملے تو منصوبہ برج فنانسنگ کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عوام بند کمروں کی پالیسیوں سے متاثر ہوئے ہیں اور شفافیت پر مبنی فیصلے ناگزیر ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے کہا کہ وہ ناحق قید ہیں اور ان کا معیاری علاج اور ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج ان کا حق ہے، تاہم اس معاملے میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔
یہ باتیں وزیراعلیٰ نے پشاور میں خیبر کالج آف ڈینٹسٹری کے زیرِ اہتمام تین روزہ دوسری انٹرنیشنل کانفرنس 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔
