لوئر دیر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہری حبیب اللہ اس وقت سعودی عرب میں شدید بیماری اور بے بسی کی حالت میں انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ اہلِ خانہ نے حکومتِ پاکستان اور متعلقہ حکام سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔
ذرائع کے مطابق حبیب اللہ کا تعلق لوئر دیر کے علاقے منزری تنگی سے ہے اور وہ سعودی عرب میں ایک مقامی کفیل کے ساتھ بطور لیموزین ڈرائیور کام کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: طالبان کے ہاتھوں جنگی ڈرون کا استعمال، پاکستان کیلئے کتنا بڑا چیلنج؟
تاہم کچھ عرصہ قبل کفیل کے دو بھائیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہونے کے باعث ان کے ساتھ کام کرنے والے تمام ملازمین کو فارغ کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں حبیب اللہ بھی روزگار سے محروم ہو گئے۔
روزگار ختم ہونے کے بعد حبیب اللہ کی طبیعت بگڑ گئی اور انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں چند دن علاج کے بعد انہیں ڈسچارج کر دیا گیا۔ تاہم اس وقت بھی وہ انتہائی تشویشناک حالت میں ہیں اور مناسب طبی سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق سعودی عرب میں مکمل علاج کے اخراجات بہت زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے علاج جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ دوسری جانب قانونی پیچیدگیوں کے باعث حبیب اللہ اس وقت نہ تو کوئی نیا کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی پاکستان واپس آ سکتے ہیں۔
حبیب اللہ کے گھر والے شدید پریشانی اور کرب میں مبتلا ہیں۔ اہلِ خانہ نے حکومتِ پاکستان، متعلقہ حکام، سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے اور پاکستانی کمیونٹی سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور حبیب اللہ کو بحفاظت پاکستان واپس لانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ ان کا علاج اپنے ملک میں ممکن بنایا جا سکے۔
