خیبر پختونخوا کے محکمہ ایکسائز میں مبینہ بے ضابطگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں پشاور ایکسائز تھانے سے مالِ مقدمہ کی 160 گاڑیوں کی عدم موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔
انسپیکشن ٹیم کی جانچ کے دوران صرف 6 گاڑیاں تھانے میں موجود پائی گئیں، جبکہ باقی گاڑیوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ سونا کتنے کا ہوگیا؟
ذرائع کے مطابق یہ گاڑیاں مبینہ طور پر کچھ اہلکاروں کی جانب سے اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور بااثر افراد کو استعمال کے لیے دی گئی تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان گاڑیوں کا ریکارڈ سرکاری رجسٹر میں موجود ہے اور گاڑیاں لینے والوں کی تفصیلات بھی سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق کچھ گاڑیوں کے استعمال سے متعلق مزید معلومات بھی سامنے آئی ہیں، جن کی بنیاد پر معاملے کی تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد اعلیٰ حکام نے تمام غائب گاڑیاں 24 گھنٹوں کے اندر واپس تھانے لانے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ ان کی موجودہ حالت اور قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس سلسلے میں پشاور ایکسائز تھانے کو باضابطہ وارننگ بھی دی گئی ہے۔
محکمہ ذرائع کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور رپورٹ مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
