وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی سربراہی میں حکومت اور اپوزیشن کے مشترکہ قبائلی جرگے نے دہشت گردی اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہری شہادتوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قبائلی عوام کو بدامنی کی دوہری قیمت ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

 

 جرگے کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی ہو یا ڈرون حملے، دونوں صورتوں میں عام شہریوں کا نشانہ بننا ناقابل برداشت ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: کم عمری کی شادی کے خلاف بل منظور، خلاف ورزی پر والدین، سرپرست اور نکاح خواں کو کتنی سزا ہوگی؟

 

جرگہ ممبران نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود بار بار “غلطیوں” کے نام پر شہری جانوں کا ضیاع کسی صورت قابل قبول نہیں اور محض معذرتیں ان نقصانات کا ازالہ نہیں کر سکتیں۔

 

 ان کے مطابق مسلسل ایسے واقعات نظامی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

 

سہیل آفریدی کے مطابق صورتحال کے پیش نظر اہم فیصلے کرتے ہوئے جمعرات کو صوبائی اسمبلی کا خصوصی اجلاس، جمعہ کو خصوصی کابینہ اجلاس اور ہفتہ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں گرینڈ قبائلی جرگہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا لاہور کا مجوزہ دورہ بھی ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر مکمل توجہ دی جا سکے۔

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبہ مزید بدامنی کا متحمل نہیں ہو سکتا اور فیصلہ سازوں کو سمجھنا ہوگا کہ عوام کا خون سستا نہیں۔

 

 انہوں نے بتایا کہ رواں سال دہشت گردی کے خلاف صوبائی استعداد مزید مضبوط بنانے کے لیے سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کے لیے 26 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

 

جرگے میں سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کے خاتمے، شہریوں کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔