خیبرپختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت میں ایک اور افسوسناک واقعے میں نامعلوم مسلح افراد نے جیل پولیس کے اہلکار کو اغوا کر لیا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مغوی اہلکار صدیق خان ضلع کرک کی جیل میں تعینات تھا اور چھٹی پر اپنے گھر آیا ہوا تھا۔ اہلکار کا تعلق گاؤں عبدالخیل سے بتایا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق گاؤں احمد خیل کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے اہلکار کو اغوا کیا اور فرار ہوگئے۔ واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی اسی علاقے میں اینٹی نارکوٹکس فورس کے اہلکار فرید اللہ کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا، جن کا تعلق بھی عبدالخیل سے تھا۔ مقتول اہلکار کی مبینہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بنوں: ممش خیل سے سیف سٹی پراجیکٹ کے 5 ملازمین اغوا
اہل علاقہ کے مطابق گزشتہ روز مسلح افراد نے مغوی اہلکار کی حوالگی کے لیے ڈھوڈا گاؤں طلب کیا تھا، جہاں بعد ازاں اسے فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
ادھر آج کے واقعے کے بعد مقامی لوگ بڑی تعداد میں مسلح ہو کر سڑکوں پر نکل آئے اور مبینہ حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے بھی اسی علاقے میں گاؤں بیگوخیل کے دو نوجوانوں صفی اللہ اور افنان کو بے دردی سے قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
