انیلہ نایاب 

 

پشاور کے علاقے وزیر باغ (بجو قبر) میں ان دنوں ایک عجیب و غریب خبر نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور مقامی افراد کی باتوں میں ایک پراسرار مخلوق “ششکا” یعنی چڑیل   کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ مخلوق رات کے وقت ظاہر ہوتی ہے اور عجیب و غریب آوازیں نکالتی ہے۔

 

ان ویڈیوز میں بعض افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود چڑیل  کی آوازیں اور حرکات محسوس کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علاقے کے کچھ رہائشیوں میں خوف کے ساتھ ساتھ تجسس بھی پایا جا رہا ہے۔

 

وزیر باغ میں رات کے وقت اکثر ایک ہجوم بھی دیکھا جا رہا ہے جو اس مبینہ مخلوق کو دیکھنے یا اس کی آواز سننے کے لیے جمع ہوتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ہجوم میں صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ بزرگ اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: عید فیشن میں کون سی چوڑیاں سب سے آگے ہیں؟

 

 لوگ آدھی رات کے وقت مخصوص مقامات پر جمع ہو کر چڑیل کو آوازیں دیتے ہیں یا اس کی موجودگی کے بارے میں قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔ کچھ افراد اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں جبکہ کئی لوگ اسے محض ایک دلچسپ تفریح سمجھتے ہیں۔

 

اس پورے معاملے کو پھیلانے میں سوشل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ مختلف ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ رات کے وقت کسی سنسان جگہ یا وزیر باغ قبرستان کے قریب کھڑے ہو کر شور مچاتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ قریب ہی کہیں چڑیل موجود ہے۔ تاہم ان ویڈیوز میں اکثر کوئی واضح مخلوق نظر نہیں آتی۔

 

 صرف آوازیں اور ماحول ایسا ہوتا ہے جو تجسس کو بڑھا دیتا ہے۔ اسی وجہ سے کچھ لوگ ان ویڈیوز کو سچ مان لیتے ہیں جبکہ دوسرے اسے محض ایک افواہ یا مذاق قرار دیتے ہیں۔

 

مقامی لوگوں میں اس حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک مقامی باشندے رشید کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں کئی قدیم قبرستان موجود ہیں جن کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ 

 

اس کے مطابق بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ایسے پرانے مقامات پر جنات یا روحانی مخلوقات کا بسیرا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے جب بھی کوئی غیر معمولی آواز یا سایہ نظر آتا ہے تو لوگ اسے فوراً کسی پراسرار مخلوق سے جوڑ دیتے ہیں۔

 

رشید کے مطابق اس علاقے کی تاریخی اہمیت بھی کم نہیں۔ ماضی میں یہاں مغلیہ دور کے آثار موجود رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں کہیں قدیم خزانے یا قیمتی اشیاء دفن ہیں۔ اسی امید میں بعض افراد رات کے وقت خفیہ طور پر کھدائی کرنے بھی آ جاتے ہیں۔

 

 مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے ایسے افراد دوسروں کو ڈرانے کے لیے عجیب آوازیں یا حرکات کرتے ہوں تاکہ کوئی ان کے قریب نہ آئے۔

 

ایک اور شہری گل رحمان نے اس معاملے کو مختلف انداز میں بیان کیا۔ ان کے مطابق بعض لوگ رات کے وقت قبرستان کے قریب بیٹھ کر روحانی عملیات یا “چھلہ” کاٹتے ہیں۔ اس دوران وہ بال کھلے رکھتے ہیں یا غیر معمولی انداز میں بیٹھتے ہیں، جسے دور سے دیکھنے والا شخص کسی پراسرار مخلوق کا گمان کر لیتا ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ اب تک “ششکا” نامی کسی مخلوق کے وجود کا کوئی مستند ثبوت سامنے نہیں آیا۔ زیادہ تر ویڈیوز میں صرف شور شرابا، ہنسی مذاق یا لوگوں کی قیاس آرائیاں ہی نظر آتی ہیں۔

 

 تاہم اس طرح کی کہانیاں معاشروں کا ہمیشہ سے حصہ رہی ہیں۔ جب کسی جگہ کے ساتھ پرانی تاریخ، قبرستان یا سنسان ماحول جڑا ہو تو وہاں پراسرار قصے جلد جنم لے لیتے ہیں۔

 

اس واقعے میں بھی بظاہر یہی لگتا ہے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے ایک معمولی بات نے بڑی کہانی کی شکل اختیار کر لی ہے۔ کچھ لوگ اسے خوفناک راز سمجھ رہے ہیں جبکہ دوسرے اسے محض ایک دلچسپ افواہ قرار دیتے ہیں۔

 

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جب تک کسی دعوے کا واضح ثبوت نہ ہو، ایسی خبروں کو سنجیدگی کے بجائے احتیاط اور تحقیق کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ ممکن ہے کہ “ششکا” صرف ایک کہانی ہو، مگر اس نے لوگوں میں گفتگو اور تجسس کا ایک نیا موضوع ضرور پیدا کر دیا ہے۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔