خولہ زرافشاں 

 

جب بھی عید کی آمد ہوتی ہے تو بازاروں میں چوڑیوں کی نت نئی اور خوبصورت اقسام سجی نظر آتی ہیں۔ رنگ برنگی چوڑیاں، کانچ کی چوڑیوں کے ساتھ کڑے والے سیٹ اور دلکش ڈیزائنز خواتین اور لڑکیوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔

 

 عید کی تیاریوں میں چوڑیاں خریدنا تقریباً ہر لڑکی کے لیے ایک خاص روایت بن چکا ہے، کیونکہ یہ ہاتھوں کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتی ہیں اور لباس کو مکمل انداز دیتی ہیں۔

 

اس عید پر ہیوی برائیڈل اسٹائل سیٹس خاصے مقبول ہیں جن میں چوڑیوں کے ساتھ خوبصورت کڑے بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس منیمل اور پتلی کانچ کی چوڑیاں بھی ٹرینڈ میں ہیں جو سادگی پسند خواتین کے لیے بہترین انتخاب سمجھی جاتی ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: رمضان میں تلی ہوئی غذائیں: کن بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

 

 موتیوں اور نگوں سے مزین چوڑیاں پارٹی وئیر کے لیے موزوں ہوتی ہیں، جبکہ کڑا اسٹائل اور کسٹم نیم یا چارم والی چوڑیاں نوجوان لڑکیوں میں ایک فیشن اسٹیٹمنٹ بن چکی ہیں۔

 

اس عید پر کشمیری چوڑیاں بھی خاص طور پر ٹرینڈ میں ہیں، جو نہایت خوبصورت اور دلکش دکھائی دیتی ہیں۔ کشمیری چوڑیاں دراصل سنہری چوڑیوں پر مشتمل ہوتی ہیں جن پر چھوٹے چھوٹے گھنگرو لگے ہوتے ہیں، اور ان کے ساتھ رنگین کانچ کی چوڑیاں بھی شامل کی جاتی ہیں۔

 

 جب یہ چوڑیاں ایک ساتھ پہنی جائیں تو ان کی خوبصورتی اور دلکشی مزید بڑھ جاتی ہے اور ہاتھوں کو ایک منفرد اور دلکش انداز دیتی ہیں۔

 

چوڑیاں صدیوں سے خواتین کے بناؤ سنگھار کا اہم حصہ رہی ہیں۔ مشرقی معاشروں میں چوڑیوں کو نہ صرف خوبصورتی کی علامت سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ خواتین کی خوشی، روایت اور ثقافت کی بھی نمائندگی کرتی ہیں۔

 

قدیم زمانے میں چوڑیاں زیادہ تر مختلف دھاتوں سے تیار کی جاتی تھیں۔ سونے اور چاندی کی چوڑیاں خاص طور پر امیر اور بااثر طبقے میں مقبول تھیں، جبکہ عام لوگ بھی اپنی استطاعت کے مطابق دھاتی چوڑیاں استعمال کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس صنعت میں جدت آتی گئی اور چوڑیوں کے انداز، رنگوں اور مواد میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔

 

بعد ازاں پلاسٹک، کانچ اور دیگر مواد سے بنی چوڑیاں بھی بازار میں آنے لگیں۔ یہ چوڑیاں نہ صرف دلکش اور خوبصورت ہوتی ہیں بلکہ قیمت کے لحاظ سے بھی عام لوگوں کی پہنچ میں ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔

 

ماضی میں چوڑیوں کا کاروبار زیادہ تر خواتین کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ وہ سر پر ٹوکری رکھے گلی محلوں میں گھومتی تھیں اور اپنی مخصوص آواز میں چوڑیاں بیچنے کی صدا لگاتیں۔ 

 

ان کی آواز سنتے ہی گھروں میں موجود خواتین اور لڑکیاں انہیں اندر بلاتیں اور شوق سے چوڑیاں خریدتیں۔ یہ خواتین دن بھر مختلف گھروں اور گاؤں میں جا کر اپنا روزگار کماتیں، جبکہ کچھ بازاروں میں بیٹھ کر بھی چوڑیاں فروخت کیا کرتی تھیں۔

 

وقت کے ساتھ ساتھ اس کاروبار میں بھی تبدیلی آئی اور مرد حضرات کی شمولیت بڑھنے لگی۔ آج کے دور میں چوڑیوں کی بڑی بڑی دکانیں قائم ہو چکی ہیں جہاں ہر رنگ، ہر ڈیزائن اور ہر انداز کی چوڑیاں باآسانی دستیاب ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اور تخلیقی ڈیزائنز نے چوڑیوں کو پہلے سے کہیں زیادہ دلکش اور منفرد بنا دیا ہے۔

 

ایک وقت ایسا بھی تھا جب کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ چوڑیاں صرف دیہات میں رہنے والی خواتین یا وہ لوگ پہنتے ہیں جو فیشن سے زیادہ واقف نہیں ہوتے۔ مگر وقت کے ساتھ یہ تاثر بھی بدل گیا۔ آج چوڑیاں خواتین کے فیشن اور لباس کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔

 

 نہ صرف عام خواتین بلکہ شوبز سے وابستہ اداکارائیں اور ماڈلز بھی شوق سے چوڑیاں پہنتی ہیں اور انہیں اپنے لباس کے ساتھ خوبصورتی سے ہم آہنگ کرتی ہیں۔

 

آج کل بازاروں میں چوڑیوں کے نت نئے ڈیزائن اور دلکش ورائٹیاں متعارف ہو رہی ہیں۔ ہر لڑکی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کے پاس اپنے ہر لباس کے مطابق رنگ اور ڈیزائن کی خوبصورت چوڑیاں موجود ہوں۔

 

 یہی وجہ ہے کہ چوڑیوں کا فیشن وقت کے ساتھ مزید مقبول اور دلکش ہوتا جا رہا ہے چوڑیوں کا یہ سفر روایت سے جدید فیشن تک اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ثقافتی روایات کو جدت کے ساتھ ہم آہنگ کر لیا جائے تو وہ کبھی پرانی نہیں ہوتیں بلکہ ہر دور میں اپنی خوبصورتی اور اہمیت برقرار رکھتی ہیں۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔