پشاور کے جنوبی علاقوں میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے نئی آوٹر رنگ روڈ بنانے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ مجوزہ سڑک تقریباً 31 کلومیٹر لمبی ہوگی جبکہ اس پر 50 سے 60 ارب روپے لاگت آنے کا امکان ہے اور اسے تقریباً تین سال میں مکمل کرنے کی تجویز ہے۔

 

اس منصوبے سے متعلق اہم اجلاس وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے حکام نے منصوبے کے مجوزہ روٹ، لاگت اور مدت کے بارے میں بریفنگ دی۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبر: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں خواتین سے لاکھوں روپے ہڑپ کیے جا رہے، لنڈی کوتل کے مشران کا الزام

 

اجلاس میں بتایا گیا کہ نئی رنگ روڈ پشاور کے جنوبی علاقوں کو آپس میں جوڑے گی اور اس سے شہر میں ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا، جبکہ تجارتی سرگرمیوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

 

وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ منصوبے میں عوام کی سہولت کے لیے ضروری انٹرچینجز شامل کیے جائیں تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں آسانی ہو۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ بناتے وقت مستقبل کی ٹریفک اور شہر کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

 

اجلاس میں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے رابطہ کر کے پشاور بس ٹرمینل پر انٹرچینج بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اس سے گاڑیوں کو شہر میں داخل ہوئے بغیر اپنی منزل تک جانے میں سہولت ملے گی اور شہر کے اندر ٹریفک کم ہوگا۔

 

اس کے علاوہ مجوزہ آوٹر رنگ روڈ پر بی آر ٹی ٹریک شامل کرنے کے امکان کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی تاکہ مستقبل میں شہریوں کو بہتر پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت مل سکے۔