ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خواتین سے رقم کی ترسیل کے دوران لاکھوں روپے کی غیر قانونی کٹوتیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
اس سلسلے میں الزام ہے کہ بعض پروگرام اہلکار اور اعلیٰ عہدیدار بھی ملوث ہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور: 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور اہم رہنما چالان میں نامزد
یہ بات آل خیبر اتحاد کمیٹی کے اراکین نے لنڈی کوتل میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ کمیٹی کے اراکین خادم شاہ، حاجی گنبت، رحمان اللہ، جان محمد، عمر اور حاجی صالح شاہ نے بتایا کہ مستحق خواتین سے 500 سے 1000 روپے تک غیر قانونی کٹوتی کی جا رہی ہے۔
خادم شاہ نے بتایا کہ کمیٹی نے اس حوالے سے متعدد بار ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا، لیکن کسی بھی قسم کا مؤثر ردعمل نہیں دیا گیا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں سنجیدہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ آئندہ رقوم والٹ سم کے ذریعے جاری کی جائیں گی، مگر اس پر اب تک عملدرآمد نہیں ہوا۔
خادم شاہ نے مزید کہا کہ ڈیوائس کے ذریعے رقم کی ادائیگی میں بڑے پیمانے پر رشوت اور کٹوتیوں کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، اور ان کے پاس خواتین سے غیر قانونی کٹوتیوں کے واضح ثبوت بھی موجود ہیں۔
کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ لنڈی کوتل میں موجود تمام ڈیوائسز کو فوری طور پر بند کیا جائے اور دیگر اضلاع سے عملہ لا کر رقم کی ترسیل کو شفاف بنایا جائے۔ ساتھ ہی، انہوں نے خواتین عملے کی تعیناتی کا بھی مطالبہ کیا تاکہ مستحق خواتین کو ادائیگی کے دوران بے پردگی اور دیگر مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
