پشاور میں 9 مئی کو ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تفتیشی افسر نے انسدادِ دہشتگردی عدالت میں چالان پیش کر دیا ہے۔

 

چالان کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سابق صوبائی وزراء تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش، ضلعی صدر عرفان سلیم اور کارکن عامر چمکنی کو بھی ملزمان میں شامل کیا گیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: بلدیاتی نمائندوں کی مدت میں توسیع ممکن ہے یا نہیں؟ رپورٹ جاری

 

پولیس کے مطابق ملزمان کو پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ اور نادرا کے ریکارڈ کی بنیاد پر نامزد کیا گیا ہے۔ تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ فرانزک شواہد اور نادرا رپورٹ کے بعد وزیر اعلیٰ سمیت دیگر افراد کے نام چالان میں شامل کیے گئے۔

 

تفتیشی افسر کی جانب سے مکمل چالان انسداد دہشتگردی عدالت پشاور میں جمع کرا دیا گیا ہے، جس کے بعد کیس کی مزید کارروائی عدالت میں جاری رہے گی۔

 

یاد رہے کہ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے پشاور پولیس کی درخواست پر 9 مئی کے واقعات سے متعلق ویڈیوز اور آڈیو ویژول مواد کا تفصیلی تجزیہ مکمل کیا تھا۔

 

 رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور سلیم جھگڑا اور عرفان سلیم کی 9 مئی کے واقعات کے دوران موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی۔

 

فرانزک رپورٹ پشاور کے تھانہ شرقی کی جانب سے بھجوائی گئی یو ایس بی میں موجود مواد پر مبنی تھی، جس میں شامل 16 ویڈیوز کا فریم بہ فریم جائزہ لیا گیا تھا۔ 

 

رپورٹ کے مطابق متعدد ویڈیوز میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ کے شواہد نہیں ملے تھے، تاہم چند ویڈیوز میں لوگو اور ٹیکسٹ شامل کیے جانے کی نشاندہی کی گئی تھی۔