خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائم کردہ پارلیمانی کمیٹی نے مقامی حکومتوں کی مدت میں توسیع کے معاملے پر اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کر دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ آئینی اور قانونی فریم ورک کے تحت بلدیاتی نمائندوں کی مدت میں توسیع ممکن نہیں۔

 

کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان اور خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013، خصوصاً سیکشن 79 اور 120 اے کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کی چار سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد اس میں توسیع یا تاخیر کے لیے کوئی واضح قانونی گنجائش موجود نہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: شانگلہ: مکان پر آسمانی بجلی گرنے سے ایک ہی خاندان کے 3 افراد جاں بحق

 

 اس بنیاد پر کمیٹی نے قرار دیا کہ موجودہ قوانین کے تحت بلدیاتی اداروں کی مدت میں توسیع قانونی طور پر ممکن نہیں۔

 

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بلدیاتی نمائندے براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں، اس لیے ان کی مدت میں توسیع کے لیے قانون میں ترمیم بھی ایک حساس اور پیچیدہ معاملہ ہے اور اسے فوری یا آسان حل نہیں سمجھا جا سکتا۔

 

پارلیمانی کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ موجودہ بلدیاتی نظام کے قانونی ڈھانچے کا ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ بالخصوص ضلعائی سطح کے نظام (ڈسٹرکٹ ٹائر) کی بحالی کے مطالبے پر غور کیا جائے تاکہ بلدیاتی نظام کو مزید موثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔

 

اس مقصد کے لیے یا تو خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں مناسب ترامیم کی جائیں یا پھر ایک نیا قانون متعارف کرایا جائے۔ تاہم کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں حتمی اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہے اور حکومت ضرورت کے مطابق مناسب ہدایات جاری کر سکتی ہے۔

 

پارلیمانی کمیٹی کے کنوینر نذیر احمد عباسی، ایم پی اے کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کا اجلاس منگل کے روز خیبرپختونخوا اسمبلی میں منعقد ہوا جس میں 12 اراکین اسمبلی نے شرکت کی، جبکہ اجلاس میں بلدیاتی نمائندوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

 

اجلاس میں شرکت کرنے والے بلدیاتی نمائندوں میں ضلع مردان کے میئر ہمایت اللہ خان مایار، تحصیل کونسل سرائے نورنگ کے چیئرمین عزیز اللہ خان مروت، تحصیل لوکل گورنمنٹ حسن خیل کے چیئرمین حفیظ الرحمان اور لوکل کونسلز ایسوسی ایشن کے کوآرڈینیٹر انتظار علی خلیل شامل تھے، اجلاس کے دوران بلدیاتی نظام کی مدت، قانونی حیثیت اور مستقبل کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔