پشاور میں نئے بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قیام اور موجودہ باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے حوالے سے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے کے لیے ابتدائی ہوم ورک اور ممکنہ مقامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

 

اجلاس میں بتایا گیا کہ نئے بین الاقوامی ایئرپورٹ کے لیے تقریباً ڈھائی ہزار ایکڑ زمین درکار ہوگی اور اس کے لیے آبادی سے دور، محفوظ اور موزوں مقام کا انتخاب ضروری ہے۔ 

 

یہ بھی پڑھیے: مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ سونا نئی بلند سطح پر پہنچ گیا

 

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ایئرپورٹ کی شہری حدود میں موجودگی کے باعث ٹریفک، سیکیورٹی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، جس کے پیش نظر ایئرپورٹ کی منتقلی ناگزیر ہے۔

 

ممکنہ مقامات میں متنی، اضاخیل، سویڑزئی، ماموں خٹکی، ناگمان اور باڑہ اکاخیل شامل ہیں۔ ان مقامات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد موزوں ترین جگہ کے انتخاب کے لیے سفارشات جلد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور چیف سیکریٹری کو پیش کی جائیں گی۔

 

کمشنر پشاور ڈویژن نے ڈپٹی کمشنر پشاور کو ہدایت کی کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو محکمہ مال، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران پر مشتمل ہو۔ کمیٹی مختلف مقامات کا تفصیلی سروے کرکے ابتدائی ہوم ورک مکمل کرے گی اور سفارشات مرتب کرے گی۔

 

منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے تین ہفتوں بعد دوبارہ اجلاس ہوگا، جبکہ کمشنر نے ہدایت کی کہ ابتدائی ہوم ورک جلد مکمل کرکے منظوری کے لیے اعلیٰ حکام کو پیش کیا جائے۔

 

اجلاس میں شرکت کرنے والے افراد میں ڈپٹی کمشنر پشاور کیپٹن (ر) ثناء اللہ، ایڈیشنل ڈائریکٹر اسٹریٹیجک اینڈ پلاننگ سید حامد حسین شاہ، ایڈیشنل ڈائریکٹر ہیڈکوارٹرز شہزاد اصغر اور پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے دیگر حکام شامل تھے۔