طورخم بارڈر کی بندش کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف جاری کریک ڈاؤن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پولیس اور انتظامیہ کو نئے احکامات تک گرفتاریوں سے باز رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

 

ذرائع نے بتایا کہ پاک افغان سرحد کی بندش اور جاری کشیدگی کے باعث گرفتار افراد کی واپسی ممکن نہیں رہی، جس کے نتیجے میں پشاور میں آپریشن کو وقتی طور پر روکا گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے افغان مہاجرین کے خلاف جاری کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پاک افغان سرحدی کشیدگی: بنوں سے 6 زخمی لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل، ہائی الرٹ نافذ

 

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پولیس اور انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ افغان مہاجرین کو ہراساں کرنے یا روایات کے منافی اقدامات سے باز رہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ہدایات اپنی جگہ، لیکن صوبائی پالیسی کے مطابق بھی کارروائی کی نگرانی ضروری ہے۔

 

پولیس ذرائع کے مطابق پشاور میں اب تک ڈیڑھ ہزار سے زائد افغان شہری گرفتار کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث جیلوں اور تھانوں میں گنجائش کم پڑ گئی ہے۔

 

 گرفتاریاں فارنرز ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت کی جا رہی ہیں، لیکن سرحد بند ہونے کے سبب بے دخلی ممکن نہیں، جس سے انتظامی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

 

کچھ شہریوں نے الزام لگایا کہ بعض اہلکار رشوت لے کر افغان شہریوں کو رہا کر رہے ہیں، جسے سی سی پی او پشاور میاں محمد سعید نے سختی سے تردید کی ہے اور کہا کہ اگر شواہد موجود ہیں تو کارروائی کی جائے گی۔

 

طورخم بارڈر کی بندش کی وجہ سے پشاور میں کریک ڈاؤن عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، جبکہ اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، مری، جہلم اور چکوال میں کارروائیاں جاری ہیں۔

 

 ان آپریشنز میں پولیس، لیڈی پولیس، رینجرز اور ایلیٹ فورس کے اہلکار شامل ہیں، اور غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی اسکریننگ، شناختی دستاویزات کی جانچ، اشتہاری ملزمان کی گرفتاری، منشیات اور اسلحہ برآمدگی کے لیے بھی آپریشن کیے جا رہے ہیں۔