آج کے دور میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ بچوں کو موبائل دینا چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس موبائل کو ان کے لیے فائدہ مند کیسے بنایا جائے۔ 

 

حقیقت یہ ہے کہ موبائل اب بچوں کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے اور اسے مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔ ایسے میں والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کے استعمال کو مثبت سمت دیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: وکلا کو دباؤ میں لانے کے لیے فوجی عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی

 

 تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی توجہ، نیند اور رویے پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ متوازن اور رہنمائی کے ساتھ استعمال ان کی سیکھنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔

 

مصروف رکھنا کافی نہیں، سکھانا ضروری ہے

 

اکثر والدین بچوں کو صرف اس لیے موبائل دے دیتے ہیں تاکہ وہ کچھ دیر خاموش اور مصروف رہیں۔ بظاہر یہ ایک آسان حل لگتا ہے، لیکن یہی عادت آہستہ آہستہ بچوں کو صرف اسکرین تک محدود کر دیتی ہے۔

 

 گھنٹوں کارٹون دیکھنے سے وقتی خوشی تو ملتی ہے، مگر بچے کی تخلیقی اور ذہنی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر اسی وقت کو سیکھنے میں بدل دیا جائے تو موبائل ایک مؤثر تعلیمی ذریعہ بن سکتا ہے جو بچوں کے علم میں اضافہ کرے اور ان کی سوچنے کی صلاحیت کو بہتر بنائے۔

 

موبائل کو سیکھنے کا ذریعہ کیسے بنائیں؟

 

ضروری ہے کہ والدین اس بات پر توجہ دیں کہ بچے موبائل پر کیا دیکھ رہے ہیں۔ اگر وہ صرف تفریحی مواد تک محدود ہیں تو انہیں آہستہ آہستہ تعلیمی مواد کی طرف لایا جائے۔ ایسے ویڈیوز اور ایپس منتخب کیے جا سکتے ہیں جو بچوں کو حروف، اعداد، نئے الفاظ اور آسان کہانیاں سکھائیں۔ اس طرح بچے کھیل کھیل میں سیکھتے ہیں اور ان کا ذہن بھی متحرک رہتا ہے۔

 

 موبائل کو صرف وقت گزارنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے سیکھنے کا ایک دلچسپ پلیٹ فارم بنایا جا سکتا ہے۔

 

والدین کا ساتھ: سیکھنے کو مؤثر بناتا ہے

 

صرف موبائل ہاتھ میں دے دینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اصل فرق تب آتا ہے جب والدین خود بھی اس عمل میں شامل ہوں۔

 

 جب والدین بچوں کے ساتھ بیٹھ کر سیکھنے کے عمل میں حصہ لیتے ہیں، ان سے سوال کرتے ہیں اور ان کی رہنمائی کرتے ہیں، تو بچے زیادہ دلچسپی سے سیکھتے ہیں۔ یہ لمحے نہ صرف بچوں کی تعلیم کو بہتر بناتے ہیں بلکہ والدین اور بچوں کے درمیان تعلق کو بھی مضبوط کرتے ہیں اور بچے کے اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں۔

 

اعتدال اور توازن کیوں ضروری ہے؟

 

یہ بھی ضروری ہے کہ بچوں کے موبائل استعمال کے لیے واضح حدود مقرر کی جائیں۔ اگر موبائل کا استعمال حد سے بڑھ جائے تو یہ جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

 

 بچوں کی روزمرہ زندگی میں کھیل، جسمانی سرگرمی، کتابیں پڑھنا اور گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنا بھی بے حد ضروری ہے۔ ایک متوازن روٹین ہی بچے کی صحت مند نشوونما کو یقینی بناتی ہے۔

 

نتیجہ: مسئلہ موبائل نہیں، استعمال کا طریقہ ہے

 

آخر میں بات بہت سادہ ہے کہ موبائل خود کوئی مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ اس کا غیر متوازن اور غیر رہنمائی والا استعمال ہے۔

 

 اگر والدین تھوڑی سی توجہ اور سمجھداری سے کام لیں تو یہی موبائل بچوں کے لیے سیکھنے، سمجھنے اور آگے بڑھنے کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ بچوں کو صرف مصروف رکھنے کے بجائے انہیں سیکھنے کے مواقع دیں، کیونکہ آج کی چھوٹی سی رہنمائی کل کے بڑے فرق کی بنیاد بنتی ہے۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔