پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) میں گزشتہ رات بنوں سے پاک افغان جھڑپوں کے چھ زخمیوں کو منتقل کیا گیا۔ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق زخمیوں کی عمریں آٹھ سے تیس سال کے درمیان ہیں جن میں ایک آٹھ سالہ بچی اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔

 

 لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان  محمد  عاصم نے کہا  کہ 2 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ 4 اس وقت ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے تاہم انہیں مزید چند روز تک نگرانی میں رکھا جائے گا۔

 

 ترجمان کے مطابق پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں ایل آر ایچ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پاک افغان سرحدی کشیدگی: عام شہریوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں

 

دوسری جانب ایک سینئر پاکستانی سکیورٹی عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے ساتھ۔

 

 ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جاری آپریشن اُس وقت تک جاری رہیں گے جب تک افغان طالبان حکومت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی مبینہ سہولت کاری ترک کرنے کے حوالے سے قابلِ تصدیق یقین دہانی فراہم نہیں کرتی۔

 

عہدیدار کے مطابق پاکستان کے آپریشنز کا دورانیہ افغان طالبان حکومت کے زمینی اقدامات سے مشروط ہوگا اور پاکستان کسی جلد بازی میں نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان حکومت خطے میں امن کو سبوتاژ کرنے والے گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے اور جنگی معیشت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

 

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بنا رہا ہے اور یہ کارروائیاں حقِ دفاع کے تحت کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک 180 سے زائد چوکیوں کو تباہ اور 30 سے زائد اہم مقامات کا کنٹرول حاصل کیا جا چکا ہے، جنہیں مبینہ طور پر لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

 

ایران سے متعلق سوال پر عہدیدار نے کہا کہ پاکستان متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ایک مستحکم اور پُرامن ایران کا خواہاں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور مسلح افواج قوم کی حمایت سے ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

 

ملک گیر احتجاج کے حوالے سے حکام کا کہنا تھا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے تاہم تشدد یا افراتفری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔