عبد القیوم آفریدی
پشاور میں وکلا جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وکلا برادری پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں مؤثر اور فعال کردار ادا کریں، کیونکہ قوم کی نظریں ان پر ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمت میں بڑی کمی، نئی قیمت کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ وکلا کے پاس قانونی مہارت اور طاقت موجود ہے، جسے حق اور انصاف کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا کو دباؤ میں لانے کے لیے انہیں فوجی عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے، جو ایک تشویشناک ہے۔
وزیر اعلیٰ نے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 22 اپریل کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے کیسز مقرر ہیں، جن میں شفاف ٹرائل کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 27 اپریل کو کراچی میں وکلا جرگہ منعقد ہوگا، جبکہ اگر 5 مئی تک شفاف ٹرائل نہ ہوا تو 6 مئی کو ملک گیر قلم چھوڑ ہڑتال کی جائے گی۔
انہوں نے ملک میں آئین و قانون کی بالادستی، شفاف انصاف اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں آئینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے مؤثر ردعمل دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر آج ناانصافی کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی تو اس کے نتائج مزید سنگین ہو سکتے ہیں اور ایک جماعت کو نشانہ بنانے کا عمل پورے نظام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بنیادی حقوق کے مطابق سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی جانب سے ملاقات کی اجازت دیے جانے کے باوجود اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا، جو ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سرکاری اہلکار عدالتی احکامات پر عمل نہ کریں تو اس سے آئین و قانون کی عملداری متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ ایک جج سے ملاقات کے لیے گئے مگر طویل انتظار کے باوجود ملاقات نہ ہو سکی۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ان کی جدوجہد مکمل طور پر آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہتھیار اٹھانے یا کسی غیر آئینی اقدام کے قائل نہیں، تاہم آئین و قانون کے تحفظ کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں جدوجہد کو مزید تیز کیا جائے گا اور یہ پیغام واضح دیا گیا ہے کہ آئین و قانون کی بالادستی کے لیے کوششیں جاری رہیں گی، کیونکہ ناانصافی دیرپا نہیں ہوتی اور بالآخر انصاف ہی غالب آتا ہے۔
