سلمان خان
شمالی وزیرستان کے ہزاروں خاندان آج بھی اپنے گھروں، زمینوں، کاروبار اور ادھورے خوابوں کی واپسی کے منتظر ہیں۔
شمالی وزیرستان کے متاثرینِ آپریشن ضربِ عضب تاحال مشکلات سے بھرپور زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جون 2014 میں شروع کیے گئے اس آپریشن کو برسوں گزر چکے ہیں، تاہم جن خاندانوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں، ان کے مسائل اب بھی برقرار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: شکاری ہوشیار! خیبرپختونخوا میں جنگلی خرگوش کے شکار پر سخت ایکشن
شہاب وزیر کا تعلق شمالی وزیرستان کے مداخیل قبیلے سے ہے۔ نقل مکانی کے وقت وہ مڈل سکول کا طالب علم تھا جبکہ اس کے والد گل ناور خان میرانشاہ میں کریانہ اسٹور چلاتے تھے۔ تقریباً 13 سال قبل بدامنی اور خوف و ہراس کے باعث ان کا خاندان بھی دیگر ہزاروں خاندانوں کی طرح اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوا۔
ابتدائی طور پر شہاب کا خاندان بنوں کے بکاخیل ٹی ڈی پیز کیمپ پہنچا، تاہم جگہ نہ ملنے پر وہ بنوں ٹاؤن شپ میں کرائے کے مکان میں منتقل ہو گیا۔ اچانک نقل مکانی نے نہ صرف ان کے معاشی نظام کو متاثر کیا بلکہ شہاب کی تعلیم بھی شدید متاثر ہوئی۔
شہاب کے مطابق گھر چھوڑنے کے بعد زندگی یکسر تبدیل ہو گئی۔ والد کا کاروبار ختم ہو گیا اور کرایہ سمیت دیگر اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد اس کے والد نے مزدوری شروع کر دی، جبکہ وہ خود بھی تعلیم کے ساتھ ساتھ محنت مزدوری کرتا رہا، تاہم بالآخر معاشی دباؤ کے باعث اسے تعلیم چھوڑ کر رکشہ چلانا پڑا۔
وہ بتاتا ہے کہ بڑے بیٹے کی حیثیت سے وہ اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ تھا اور تعلیم مکمل کر کے سرکاری ملازمت حاصل کرنا چاہتا تھا، جبکہ اس کے والد کی خواہش تھی کہ وہ کاروبار سنبھالے، مگر حالات نے اس کی ترجیحات بدل دیں۔ اس وقت بنوں میں شہاب اور اس کے والد رکشہ چلا کر گھر کا خرچ اٹھا رہے ہیں۔
آپریشن ضربِ عضب کے نتیجے میں 1 لاکھ 10 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہوئے۔
مقامی مشران کے مطابق مداخیل قوم سمیت شمالی وزیرستان کے تقریباً 18 ہزار خاندان آج بھی بنوں، لکی مروت، پشاور اور دیگر علاقوں میں کرائے کے مکانات یا عارضی رہائش گاہوں میں مقیم ہیں۔
قبائلی عمائدین کے مطابق متاثرین کی ایک بڑی تعداد بنیادی سہولیات کی کمی اور مکمل بحالی نہ ہونے کے باعث اپنے آبائی علاقوں میں واپس نہیں جا سکی۔
نقل مکانی کے اثرات سب سے زیادہ بچوں، نوجوانوں اور خواتین پر پڑے۔ محکمہ تعلیم شمالی وزیرستان کے مطابق 2014 میں 1 لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہو گئے تھے۔
کیمپوں میں محدود تعلیمی سہولیات میسر تھیں، جبکہ مختلف شہروں میں منتقل ہونے والے خاندانوں کے بچوں کو مستقل تعلیمی ماحول نہیں مل سکا۔
اس کے نتیجے میں بہت سے بچوں نے تعلیم کا سلسلہ شروع ہی نہیں کیا، جبکہ کئی بچے شہاب کی طرح معاشی دباؤ، ماحول کی تبدیلی اور دیگر مسائل کے باعث تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔
مسلسل نقل مکانی اور غیر یقینی صورتحال نے متاثرہ خاندانوں کے معاشی نظام کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ زراعت، تجارت اور مقامی کاروبار سے وابستہ افراد سب کچھ پیچھے چھوڑنے پر مجبور ہوئے، جبکہ شہری علاقوں میں مزدوری یا عارضی روزگار ان کے مسائل کا مستقل حل ثابت نہ ہو سکا۔
متاثرین حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ باقی ماندہ خاندانوں کی واپسی یقینی بنائی جائے، نقصانات کا ازالہ کیا جائے، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولیات بحال کی جائیں۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ شمالی وزیرستان کے مطابق متعلقہ علاقوں کے مکمل کلیئر ہونے کے بعد باقی ماندہ متاثرین کی واپسی یقینی بنائی جائے گی۔
