حالیہ دنوں میں فضا علی کے مارننگ شو کی ایک کلپ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں ان کے شوہر اعجاز خان نے لائیو پروگرام کے دوران انہیں کندھے پر اٹھایا۔
اس موقع پر ان کی بیٹی بھی موجود تھی اور خوشی کا اظہار کر رہی تھی، تاہم یہ منظر ناظرین کے ایک بڑے حلقے کو نامناسب محسوس ہوا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید شروع ہوگئی۔
فضا علی نے اس تنقید پر ردِعمل دیتے ہوئے اسے ایک چھوٹا سا لمحہ قرار دیا جو بلاوجہ وائرل ہوگیا، لیکن اس واقعے نے ایک بار پھر پاکستانی مارننگ شوز کے معیار اور سماجی اثرات پر بحث چھیڑ دی۔
یہ بھی پڑھیے: مردان: رستم لینڈ سلائیڈنگ واقعہ، لاپتہ مزدور 16 روز بعد زندہ نکال لیا گیا
ماضی میں مارننگ شوز کو گھریلو خواتین کے لیے معلوماتی، تربیتی اور ثقافتی رہنمائی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، مگر وقت کے ساتھ ان کی نوعیت بدل گئی۔
پشاور سے تعلق رکھنے والی نزہت تسکین کے مطابق پہلے ان پروگراموں میں ثقافتی اور مذہبی اقدار کا خیال رکھا جاتا تھا اور ہر سیگمنٹ میں کوئی نہ کوئی عوامی پیغام شامل ہوتا تھا، جو اب کم نظر آتا ہے۔
وہ اس تبدیلی کو سوشل میڈیا کے اثر سے جوڑتے ہوئے کہتی ہیں، “اب ہر عمر کے لوگ یہ شوز دیکھتے ہیں، مگر مواد بدل چکا ہے۔ زیادہ توجہ گلیمر، اشتہارات اور برانڈز پر ہے—ایسی چیزیں دکھائی جاتی ہیں جو عام لوگوں کی قوتِ خرید سے باہر ہیں، تو اس حد تک تشہیر کا کیا جواز ہے؟”
کراچی سے تعلق رکھنے والی امینہ کے مطابق یہ پروگرام اب زیادہ تر ایک اشتہاری پلیٹ فارم بن چکے ہیں، جہاں اداکاروں، برانڈز، ڈاکٹروں اور ملبوسات سمیت ہر چیز کی تشہیر کی جاتی ہے۔
وہ رمضان ٹرانسمیشنز پر بات کرتے ہوئے کہتی ہیں، “پہلے یہ شوز سادہ اور بامقصد ہوتے تھے، مگر اب ریٹنگ کی دوڑ نے ان کا انداز بدل دیا ہے، اور نوجوان نسل انہیں سنجیدگی سے لینے کے بجائے میمز کے لیے دیکھتی ہے۔”
امینہ کے مطابق ماضی میں ان پروگراموں میں عوامی مسائل اور صحت سے متعلق رہنمائی شامل ہوتی تھی، مگر اب ڈاکٹر بھی اکثر اشتہاری مواد کا حصہ محسوس ہوتے ہیں، جبکہ دکھائے جانے والے ملبوسات عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوتے ہیں۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے ڈیجیٹل میڈیا مارکیٹر تحسین احسان اس تبدیلی کو وسیع سماجی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی کے پروگراموں میں ادب، اخلاقیات اور عملی رہنمائی شامل ہوتی تھی، جو مختلف طبقات کے لیے مفید ثابت ہوتی تھی۔
وہ موجودہ صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں، “اب پروگرامز میں پیڈ اشتہارات کا غلبہ ہے، اور بعض مناظر ایسے ہوتے ہیں جو فیملی کے ساتھ دیکھنے کے قابل نہیں ہوتے، جو افسوسناک ہے۔”
ان کے مطابق آج کے شوز اکثر ایسے مناظر پیش کرتے ہیں جو معاشرتی اقدار پر سوال اٹھاتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہماری ثقافت کو کس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

تحسین احسان کا کہنا ہے کہ رمضان نشریات میں بھی اکثر وہی چہرے نظر آتے ہیں جو سال بھر تفریحی مواد میں شامل رہتے ہیں، جس سے ان پروگراموں کی سنجیدگی متاثر ہوتی ہے۔ ان کے خیال میں چینلز کو ایسے افراد کو سامنے لانا چاہیے جو متعلقہ موضوع پر مہارت رکھتے ہوں اور ذمہ دارانہ انداز میں گفتگو کر سکیں۔
وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ میڈیا صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے کو پیغام دینے کا بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے، اس لیے مواد میں توازن ضروری ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر یہ سوال سامنے لاتا ہے کہ مارننگ شوز کا کردار کیا ہونا چاہیے—محض تفریح یا سماجی رہنمائی بھی؟
ناظرین کی آراء سے ظاہر ہوتا ہے کہ تبدیلی کے ساتھ ساتھ ذمہ داری اور معاشرتی حساسیت بھی ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایسے پروگرامز میں تفریح، معلومات اور اقدار کے درمیان توازن ہی بامقصد نشریات کی ضمانت بن سکتا ہے۔
