ایمان ظاہر شاہ 

 

میں نے پشتون معاشرے کے بیشتر علاقوں میں ایک بات بارہا دیکھی ہے کہ جب بھی کوئی شادی ہو، غم ہو یا خاندانی تقریب، کھانا ہمیشہ پہلے مردوں کو پیش کیا جاتا ہے۔ جب مرد حضرات کھانا کھا لیتے ہیں تو پھر عورتوں کی باری آتی ہے۔

 

 بظاہر یہ ایک معمولی سی روایت محسوس ہوتی ہے، لیکن اگر اس روایت کی تہہ میں جھانکا جائے تو یہ صرف کھانے کی ترتیب نہیں بلکہ سوچ کی ترجیح کو ظاہر کرتی ہے۔

 

بات صرف یہاں تک محدود نہیں رہتی کہ مرد پہلے کھاتے ہیں اور عورتیں بعد میں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہترین کھانا، خاص طور پر گوشت اور دیگر لوازمات، مردوں کے حصے میں آتا ہے جبکہ خواتین کے لیے محدود اور سادہ کھانا رہ جاتا ہے۔ 

 

یہ بھی پڑھیے: دل کی سنیں یا دنیا کی؟ فیصلہ کس کا ہو؟

 

پچھلے دنوں میں ایک شادی میں گئی جہاں حسبِ روایت مردوں کو پہلے کھانا پیش کیا گیا اور خواتین کو بعد میں بلایا گیا۔ لیکن جس چیز نے مجھے اندر سے خاموش کر دیا، وہ یہ تھی کہ مردوں کا بچا ہوا کھانا خواتین کے حصے میں آیا — ایسا بچا ہوا کھانا جس میں نہ گوشت تھا، نہ وہ لوازمات جو ابتدا میں دسترخوان کی زینت تھے۔

 

یہ محض ایک اتفاق نہیں، بلکہ ایک سوچ کا عکاس ہے۔ وہ سوچ جو عورت کو برابر کا انسان تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہے۔

 

افسوس اس بات کا ہے کہ انہی معاشروں میں یہ جملہ بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ “عورت ہماری عزت ہے” اور “ہم اپنی عزت پر سب کچھ قربان کر دیتے ہیں”۔ سوال یہ ہے کہ جس عورت کو آپ عزت کہتے ہیں، کیا اسے برابری بھی دیتے ہیں؟

 

عورت کے نام پر قتل تو کر دیا جاتا ہے، غیرت کے نام پر فیصلے بھی ہو جاتے ہیں، مگر روزمرہ کی زندگی میں انصاف کی باری آئے تو عورت کا نمبر ہمیشہ “بعد میں” کیوں ہوتا ہے؟ اگر کھانے کی میز پر اس کا مقام ثانوی ہے، تو کیا زندگی کے بڑے فیصلوں میں وہ واقعی اول درجے کی حیثیت رکھتی ہے؟

 

کھانے کی بہترین پلیٹ جب مرد کے سامنے رکھی جاتی ہے اور عورت کے لیے باقیات چھوڑ دی جاتی ہیں، تو دراصل پیغام یہ دیا جاتا ہے کہ “اہم” کون ہے۔ بچے بھی یہی منظر دیکھ کر بڑے ہوتے ہیں۔ وہ سیکھتے ہیں کہ ترجیح کس کو دینی ہے اور پیچھے کس کو رکھنا ہے۔ یوں یہ رویہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔

 

یہ مسئلہ صرف کھانے کی ترتیب کا نہیں، بلکہ ذہنی ساخت کا ہے۔ یہی سوچ تعلیم میں فرق ڈالتی ہے، وراثت میں ناانصافی پیدا کرتی ہے، فیصلہ سازی میں عورت کی آواز کو کمزور کرتی ہے اور اسے معاشی طور پر انحصار پر مجبور رکھتی ہے۔

 

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ روایات اگر ناانصافی کو جنم دیں تو ان پر سوال اٹھانا بغاوت نہیں بلکہ اصلاح ہے۔ معاشرے تب ترقی کرتے ہیں جب وہ اپنی کمزوریوں کو مان کر انہیں درست کرنے کی کوشش کریں۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔