ایرانی ریال کی قیمت میں حالیہ ہفتوں کے دوران غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث اس کی قدر تقریباً چار گنا تک بڑھ گئی ہے اور شہری بڑی تعداد میں اس کی خریداری کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: تشہیر کا فائدہ بھی برانڈ کو، جبکہ اضافی قیمت کا بوجھ بھی صارف پر مگر کیسے؟
ذرائع کے مطابق اس سے قبل ایک کروڑ (10 ملین) ایرانی ریال تقریباً ڈھائی ہزار روپے میں دستیاب تھے، جو اب بڑھ کر 10 ہزار روپے تک پہنچ چکے ہیں۔
بڑھتی ہوئی طلب کے باعث پشاور سمیت مختلف شہروں میں ریال کی دستیابی محدود ہو گئی ہے، جبکہ کرنسی ایکسچینج مارکیٹ میں اس کی قلت نے بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے حکومت کو بھجوائی گئی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ روپے کے مقابلے میں ریال کی قدر میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے پیچھے عوامی دلچسپی اور تیزی سے منافع حاصل کرنے کا رجحان اہم عوامل ہیں۔
دوسری جانب حکومتی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کی سرمایہ کاری مضبوط معاشی بنیادوں کے بجائے افواہوں اور اندازوں پر مبنی ہے، جو مستقبل میں بڑے مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاک ایران سرحدی تجارت، خصوصاً پٹرولیم مصنوعات کے لین دین میں اضافے نے بھی ریال کی طلب کو کسی حد تک سہارا دیا ہے۔
